اوڈیشہ کے شہر پوری میں عالمی شہرت یافتہ بھگوان جگن ناتھ کی رتھ یاترا کے دوران جمعرات کو بھگدڑ جیسے حالات پیدا ہو گئے، جس کے نتیجے میں ایک عقیدت مند کی موت ہو گئی جبکہ تقریباً 100 افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد یاترا کے مقام پر افرا تفری مچ گئی اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے عقیدت مند کو شدید بھیڑ کے درمیان سانس لینے میں دشواری پیش آئی تھی۔ انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ شدید بھیڑ اور دھکا مکی کے باعث ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں عقیدت مند بھگوان جگن ناتھ، بھگوان بلبھدر اور دیوی سبھدرا کے رتھوں کے درشن اور رتھ کھینچنے کے منتظر تھے۔ پوری کے مشہور گرینڈ روڈ، جسے بڑا ڈانڈا بھی کہا جاتا ہے، پر عقیدت مندوں کا غیر معمولی ہجوم موجود تھا۔ اسی دوران بھیڑ کا دباؤ اچانک بڑھ گیا اور دھکا مکی شروع ہو گئی، جس کے باعث متعدد افراد زمین پر گر پڑے اور بھگدڑ جیسے حالات پیدا ہو گئے۔واقعے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جن میں یاترا کے مقام پر بے قابو ہوتی ہوئی بھیڑ اور منتشر سامان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض مناظر میں لوگوں کو ایک دوسرے کو سہارا دیتے اور زخمیوں کو محفوظ مقام تک پہنچاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، اوڈیشہ ڈیزاسٹر ریپڈ ایکشن فورس اور محکمۂ صحت کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے پوری ضلع اسپتال اور دیگر طبی مراکز منتقل کیا گیا۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال کو جلد ہی قابو میں لے لیا گیا اور مزید بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے زخمیوں کی حتمی تعداد اور واقعے کی وجوہات کے حوالے سے تفصیلی سرکاری بیان ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔یہ رتھ یاترا ہندو عقیدت مندوں کے لیے نہایت اہم مذہبی تقریب سمجھی جاتی ہے، جس میں ہر سال لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد انتظامات اور بھیڑ کے نظم و نسق پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔