بھارت میں پہلی ڈینگی ویکسین کی منظوری

Wait 5 sec.

نئی دہلی (20 جولائی 2026) : بھارت میں ڈینگی سے بچاؤ کے سلسلے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پہلی ویکسین کی منظوری دے دی گئی ہے۔جاپان کی دوا ساز کمپنی ٹاکیڈا فارماسیوٹیکل کی تیار کردہ کیو ڈینگا(QDENGA)کو بھارتی ڈرگ ریگولیٹر نے استعمال کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد یہ ملک میں منظور ہونے والی پہلی ڈینگی ویکسین بن گئی ہے۔کمپنی کی بھارتی برانچ کے مطابق QDENGA ڈینگی وائرس کی چاروں اقسام کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے اور اسے 4 سے 60 سال عمر کے بچوں اور بالغ افراد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ڈینگی مچھروں سے پھیلنے والی تیزی سے بڑھتی ہوئی وائرل بیماریوں میں شامل ہے۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے دوران دنیا بھر میں 1 کروڑ 44 لاکھ سے زائد کیسز اور 11 ہزار 201 اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ بھارت میں 2 لاکھ 32 ہزار 425 کیسز اور 233 اموات رپورٹ ہوئیں۔ٹاکیڈا بایوفارماسیوٹیکلز انڈیا کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت میں ڈینگی کے رپورٹ ہونے والے کیسز میں 11 گنا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مؤثر ویکسین کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی تھی۔کمپنی کے مطابق کیو ڈینگا QDENGA کی ویکسین دو خوراکوں پر مشتمل ہے، جنہیں تین ماہ کے وقفے سے دیا جاتا ہے۔ اس ویکسین کی خاص بات یہ ہے کہ اسے لگوانے سے پہلے یہ جانچنے کی ضرورت نہیں کہ متعلقہ شخص پہلے کبھی ڈینگی کا شکار ہوا ہے یا نہیں۔کلینیکل آزمائشوں کے نتائج کے مطابق دوسری خوراک کے ایک سال بعد ویکسین نے تصدیق شدہ ڈینگی کیسز کے خلاف 80.2 فیصد مؤثریت ظاہر کی، جبکہ 18 ماہ بعد ڈینگی کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کے خطرے کو 90.4 فیصد تک کم کرنے میں کامیاب رہی۔یہ ویکسین اب تک دنیا کے 43 ممالک میں منظور کی جا چکی ہے۔ ٹاکیڈا انڈیا نے اس کی مقامی تیاری بڑھانے کے لیے 2024 میں بھارتی ویکسین ساز کمپنی بائیولوجیکل ای کے ساتھ شراکت داری بھی کی تھی۔ماہرِ امراضِ ڈاکٹر دیویا کے ایس کے مطابق یہ ویکسین بیماری کی شدت اور اسپتال میں داخلے کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے، تاہم صرف ویکسینیشن سے ڈینگی کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، کیونکہ جب تک ڈینگی پھیلانے والے مچھر موجود رہیں گے، بیماری کے پھیلنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔