تہران (18 جولائی 2026): ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے ایک بیان میں امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ اگر چند روز مزید حملے ہوئے تو مکمل جارحانہ آپریشن شروع کر دیں گے۔ایک ٹی وی انٹرویو میں ایران کے ملٹری ایڈوائزر محسن رضائی نے کہا کہ جنگ کے دوران مذاکرات کی پالیسی اب ختم ہو چکی ہے، انھوں نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات کی پالیسی نہیں چلتی، امریکی حملے جاری رہے تو بھرپورجوابی کاررائی کریں گے۔محسن رضائی نے کہا اگر امریکا ایران پر بمباری جاری رکھتا ہے تو تہران اس تنازع کو مکمل جنگ کی سطح تک بڑھا دے گا، اب تک ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں کو محدود رکھا ہے، تاہم یہ صورت حال زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی۔فوجی مشیر نے کہا امریکا نے ایران میں مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ بدل سکتا ہے، جنگ میں دفاعی نہیں، جارحانہ حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں، اگر چند روز مزید حملے ہوئے تو مکمل جارحانہ آپریشن شروع کر دیں گے۔ View this post on InstagramA post shared by Al Jazeera English (@aljazeeraenglish)دوسری طرف پاسدارانِ انقلاب ایرو سپیس فورس کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مجید موسوی نے کہا ہے کہ دشمن کے خلاف ایران کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں دوبارہ امن بحال نہیں ہو جاتا۔انھوں نے کہا پورا ایران اس وقت ایک ساتھ دشمن کے خلاف کھڑا ہے، اگر ایرانی شہریوں یا بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے گئے تو اس کا جواب اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران پر مسلسل ساتویں رات فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا۔ سینٹ کام کے مطابق کارروائی کے دوران ایران کے نگرانی کے مراکز، عسکری لاجسٹکس اور زیرِ زمین ہتھیاروں کے ذخائر کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو اور مصنوعی ذہانت کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے تباہ کر دیا گیا، قطر میں بھی امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔