سونم وانگچک کو پولیس جنتر منتر سے جبراً اسپتال لے گئی، اپوزیشن نے حکومت پر لگایا جمہوریت کو کچلنے کا الزام

Wait 5 sec.

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے آج جب جنتر منتر پر سونم وانگچک کی ہڑتال اکیسویں دن میں داخل ہو گئی تھی، اور ان کی خراب طبیعت کو لے کر خبریں گشت کر رہی تھیں، تو دہلی پولیس انھیں جبراً اٹھا کر اسپتال لے گئی۔ اس واقعہ کے بعد جنتر منتر پر موجود لوگون میں ہنگامہ شروع ہو گیا اور اپوزیشن پارٹیوں کے بیانات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ دہلی پولیس نے سونم کو جبراً صفدر جنگ اسپتال میں داخل تو کرایا ہی، جنتر منتر پر ان کے ساتھ بیٹھے مظاہرین کو بھی ہٹانا شروع کر دیا ہے۔ مظاہرین وہاں نعرہ بازی کر رہے ہیں اور پولیس کی اس کارروائی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔Breaking news this morning: Activist Sonam Wangchuk, who was sitting on a hunger strike from last 20 days at Jantar Mantar, taken to the hospital by the police. Delhi Police claim that they are acting on court orders: truth is, court asked govt to monitor his health and not… pic.twitter.com/1tbGpfqMFC— Rajdeep Sardesai (@sardesairajdeep) July 18, 2026میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے جنتر منتر جانے والے سبھی راستوں کو بند کر دیا ہے۔ پولیس مظاہرین سے جنتر منتر کو خالی کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔ ڈی سی پی نئی دہلی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ’’عزت مآب ہائی کورٹ کے حکم اور میڈیکل ایکسپرٹس کے مشورہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے سونم وانگچک کی بگڑتی صحت کو دیکھ کر انھیں ضروری طبی دیکھ بھال کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’’پولیس نے بہت صبر سے کام لیا اور یہ کام بہ حفاظت انجام دیا گیا۔ ہم جنتر منتر پر موجود مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد پرامن طریقے سے جگہ خالی کر دیں۔‘‘VIDEO | Delhi Police shifts Sonam Wangchuk to hospital on day 21 of his hunger strike.DCP New Delhi Sachin Sharma says, "In accordance with the orders of the High Court, and considering his health and medical condition, Sonam Wangchuk has been taken to an appropriate government… pic.twitter.com/VNWwtGiYgw— Press Trust of India (@PTI_News) July 18, 2026سونم وانگچک کو جنتر منتر سے جبراً ہٹا کر صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرائے جانے کی خبر پر کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن لیڈران نے اس کارروائی پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے۔ آئیے نیچے دیکھتے ہیں سونم وانگچک کے ساتھ ہوئی زبردستی پر کس لیڈر نے کیا کہا...Breaking : Activist Sonam Wangchuk been taken to Safdarjung Hospital. Heavy police deployment at Jantar Mantar.Students have formed a human chain in front of students Neha, Aamen and Manish who are there on their 21st day of hunger strike pic.twitter.com/jZsiU7z2lN— Hemant Rajaura (@hemantrajora_) July 18, 2026سچن پائلٹ (کانگریس):یہ حکومت کی غلط پالیسی ہے۔ سونم وانگچک تقریباً 20 دنوں سے ہڑتال پر ہیں، وہ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ جیسے اہم ایشوز کے لیے کھانا پینا چھوڑ کر احتجاج کر رہے ہیں۔ پھر بھی حکومت نے نہ تو کوئی بات چیت کی، نہ ہی کوئی مذاکرہ شروع کیا، اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی توجہ دی۔ اب ملک بھر میں بڑھتے اثر اور عوام کے بڑھتے دباؤ کو دیکھتے ہوئے وہ انھیں زبردستی اسپتال لے جا رہے ہیں، تاکہ ذمہ داری سے بچ سکیں۔ حکومت کے لیے بات چیت شروع کرنا کہیں بہتر ہوتا۔ انھیں اسپتال لے جانے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حکومت شدید دباؤ میں ہے اور اسپتال لے جانے سے عوام کا غصہ مزید بڑھے گا۔ये क्या गुंडागर्दी चल रही है?मोदी जी ये सत्ता का अहंकार लंबे समय तक नही चलता।जिस युवा पर लठ्ठ चला रहे हो, यही आपका तख़्त उखाड़ेगा।एक शख़्स @Wangchuk66 जो पिछले 21 दिनों से आमरण अनशन पर है, उनकी माँगें सुनने के बजाय उसको जबरन गिरफ़्तार करके हॉस्पिटल में भर्ती करा दिया गया। https://t.co/N6cuofEYhD— Sanjay Singh AAP (@SanjayAzadSln) July 18, 2026سنجے سنگھ (عا آدمی پارٹی):یہ کیسی غنڈہ گردی چل رہی ہے؟ مودی جی، یہ اقتدار کا گھمنڈ طویل مدت تک نہیں چلتا۔ جس نوجوان پر لٹھ چلا رہے ہو، یہی آپ کا تخت اکھاڑے گا۔ سونم وانگچک، جو گزشتہ 21 دنوں سے تامرگ بھوک ہڑتال پر ہیں، ان کے مطالبات سننے کی جگہ جبراً گرفتار کر کے اسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔सोनम वांगचुक जी को जबरन हटाना सिर्फ एक कार्रवाई नहीं, बल्कि लोकतंत्र और संविधान को कुचलना है।भाजपा सरकार को अब शांतिपूर्ण विरोध भी बर्दाश्त नहीं - यह तानाशाही है।— Dimple Yadav (@dimpleyadav) July 18, 2026ڈمپل یادو (سماجوادی پارٹی):سونم وانگچک کو زبردستی ہٹانا صرف ایک کارروائی نہیں، بلکہ جمہوریت اور آئین پر حملہ ہے۔ بی جے پی حکومت اب پُرامن احتجاجی مظاہرہ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ تاناشاہی ہے۔بی جے پی کے لوگ ملک کے لیے کفن کے طور پر سفید چادر لے کر آ رہے ہیں۔ جب پُرامن آوازوں کو دبایا جاتا ہے، تو آئین اور جمہوریت بھی زخمی ہوتے ہیں۔ سونم وانگچک جیسے لوگوں کی آواز کو دبانا ملک کی روح کو دبانے جیسا ہے۔बीजेपी वाले देश के लिए सफेद चादर का कफ़न लेकर आए हैं।जब शांतिपूर्ण आवाज़ों को दबाया जाता है, तो संविधान और लोकतंत्र भी आहत होते हैं।सोनम वांगचुक जैसे लोगों की आवाज़ दबाना, देश की आत्मा को दबाना है। pic.twitter.com/mFVCA0CRtA— Dimple Yadav (@dimpleyadav) July 18, 2026ساگریکا گھوش (ترنمول کانگریس):یہ کس طرح کی حیران کرنے والا اور زبردستی والا حکومتی تشدد ہے؟ اخلاقی طور سے دیوالیہ مودی حکومت صرف ڈنڈے کا استعمال کرنا جانتی ہے۔ یہ منظور نہیں ہے۔What sort of shocking coercive state violence is this? The morally bankrupt @narendramodi regime only knows how to use the danda. UNACCEPTABLE https://t.co/TMdI2htVX1— Sagarika Ghose (@sagarikaghose) July 18, 2026آدتیہ ٹھاکرے (شیوسینا یو بی ٹی):کتنی شرم کی بات ہے! دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت کو کس طرح بے شرمی سے زبردستی توڑا جا رہا ہے۔ اب تو ایک نااہل وزیر کے خلاف طلبا کے پُرامن احتجاجی مظاہرے بھی برداشت نہیں کیے جاتے۔What a shame! The world watches democracy in India being broken by force, shamelessly. Even peaceful protests for students against an incompetent minister are not tolerated anymore. https://t.co/jL4WSuhsLK— Aaditya Thackeray (@AUThackeray) July 18, 2026