بھوپال کی ایک عدالت نے منگل کو ٹویشا شرما موت معاملے میں سابق ضلع جج گریبالا سنگھ اور ان کے بیٹے سمرتھ سنگھ کی عدالتی حراست میں 28 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ملزمان نے اپنی آواز کے نمونے لینے کے عمل میں تعاون نہیں کیا۔ عدالتی احاطے میں سخت سیکورٹی کے درمیان ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت ہوئی۔ سی بی آئی نے ملزمان کی عدالتی حراست بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ دونوں نے 6 جولائی کو وائس سیمپل لینے کی کارروائی کے دوران تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ٹویشا شرما موت معاملہ: عدالت نے 14 جولائی تک بڑھائی ساس گری بالا سنگھ اور شوہر سمرتھ سنگھ کی عدالتی تحویلٹویشا شرما کے اہل خانہ کے وکیل انکور پانڈے نے بتایا کہ سمرتھ سنگھ نے اپنی آواز کا نمونہ دینے سے صاف انکار کر دیا، جبکہ گریبالا سنگھ نے شروع میں ایک نمونہ تو دیا لیکن بعد میں اس عمل کو آگے بڑھانے سے منع کر دیا۔ وکیل انکور پانڈے نے سماعت کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ’’سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ملزمان نے وائس سیمپل لینے کے دوران تعاون نہیں کیا، اور ان کی عدالتی حراست میں توسیع کا مطالبہ کیا۔ ایجنسی کی بات مانتے ہوئے عدالت نے ان کی حراست 28 جولائی تک بڑھا دی۔‘‘عدالت نے متاثرہ خاندان کی طرف سے دائر اس درخواست پر بھی سماعت کی، جس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کاپی مانگی گئی تھی۔ خاندان کے وکلاء کے مطابق ایمس بھوپال نے عدالت کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور اس سے متعلقہ دستاویزات پہلے ہی سیل بند لفافے میں سی بی آئی کے حوالے کی جا چکی ہیں، اس لیے انہیں الگ سے فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ ایمس دہلی نے اب تک ایسی ہی ایک اور درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ نیوز ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق ایمس دہلی کے 5 رکنی میڈیکل بورڈ نے 10 جولائی کو اپنی حتمی فارنسک رپورٹ سیل بند لفافے میں سی بی آئی کے حوالے کر دی ہے۔ اگرچہ رپورٹ کی باتیں عام نہیں کی گئی ہیں، لیکن امید ہے کہ تفتیش میں یہ اہم کردار ادا کرے گی۔گریبالا سنگھ اور سمرتھ سنگھ کو سی بی آئی حراست ختم ہونے کے بعد 2 جون سے بھوپال سنٹرل جیل میں رکھا گیا ہے۔ ٹویشا شرما 12 مئی کی رات بھوپال کے کٹارا ہلز علاقے میں اپنے سسرال میں مردہ پائی گئی تھیں۔ سسرال والوں کا دعویٰ تھا کہ ٹویشا نے خودکشی کی ہے، جبکہ اس کے والدین کا الزام تھا کہ ان کا قتل کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت اہم ہو گیا جب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے متاثرہ خاندان کے اعتراضات کے بعد ایمس دہلی سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا۔ خاندان نے گریبالا سنگھ کے اثر و رسوخ کے باعث پہلے پوسٹ مارٹم پر سوالات اٹھائے تھے۔قابل ذکر ہے کہ بعد میں ہائی کورٹ نے 25 مئی کو تفتیش سی بی آئی کے سپرد کر دی۔ سی بی آئی فارنسک شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کی جانچ کر رہی ہے۔ چارج شیٹ داخل کرنے کی قانونی مدت کار قریب آنے کے ساتھ ہی تفتیش ایک اہم مرحلے میں پہنچ گئی ہے، اور امید ہے کہ ایجنسی جلد ہی اپنی تحقیقات کے نتائج عدالت کے سامنے پیش کرے گی۔