لکھنؤ: کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے تمام ہاسٹل میس میں نان ویج کھانا پکانے اور پیش کرنے پر پابندی

Wait 5 sec.

لکھنؤ کی کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی نے اپنے تمام ہاسٹل میس میں نین ویج (غیر سبزی خور کھانا) پکانے اور پیش کرنے سے متعلق زبانی ہدایت جاری کی ہے۔ بی بی سی ہندی کی رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی تحریری حکم یا مکمل پابندی نہیں بلکہ صرف ایک مشاورتی ہدایت ہے۔ طلبہ اگر چاہیں تو اپنے کمروں میں باہر سے نان ویج منگوا کر استعمال کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی میں 18 ہاسٹل ہیں، جہاں تقریباً ڈھائی ہزار طلبہ رہائش پذیر ہیں۔یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر کے کے سنگھ نے بتایا کہ ادارے میں دو طرح کے میس کام کرتے ہیں۔ کچھ میس طلبہ کی تعاونی نظام کے تحت چلائے جاتے ہیں، جبکہ بعض کا انتظام براہ راست یونیورسٹی کے پاس ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹی کے زیر انتظام میس کو زبانی طور پر مشورہ دیا گیا ہے کہ وہاں نین ویج کھانا تیار نہ کیا جائے اور اس کی جگہ پنیر، چنا اور دیگر سبزی خور متبادل فراہم کیے جائیں۔ طلبہ کے زیر انتظام میس سے بھی اسی نوعیت کی درخواست کی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ڈاکٹر کے کے سنگھ نے واضح کیا کہ یونیورسٹی نے نہ تو کیمپس میں نین ویج کھانا کھانے پر پابندی عائد کی ہے اور نہ ہی ایسی کوئی ہدایت ریاستی حکومت یا راج بھون کی جانب سے موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر آف میڈیسن کے طلبہ کے لیے موجود سیٹلائٹ فلیٹس میں، جہاں ذاتی باورچی خانے موجود ہیں، اس طرح کی کوئی پابندی نافذ نہیں ہوگی۔بی بی سی ہندی کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل یونیورسٹی کے بائیسویں کانووکیشن میں اتر پردیش کی گورنر اور یونیورسٹی کی کُلپتی آنندی بین پٹیل نے ہاسٹل میس میں غیر سبزی خور کھانے کے انتظام پر سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ راج بھون کی ایک ٹیم نے تین میس کا معائنہ کیا، جہاں غیر سبزی خور کھانا تیار کیا جا رہا تھا اور ایک مقام پر میعاد ختم ہونے والے مصالحوں کے استعمال کا بھی پتہ چلا۔اگرچہ گورنر نے اپنے خطاب میں غیر سبزی خور کھانے پر پابندی لگانے کی کوئی بات نہیں کہی تھی، لیکن اگلے ہی دن یونیورسٹی کی جانب سے جاری ہونے والی اس زبانی ہدایت کے باعث دونوں واقعات کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ اقدام کسی براہ راست سرکاری حکم کی بنیاد پر نہیں اٹھایا گیا۔ڈاکٹر کے کے سنگھ کے مطابق 15 جون کو رام منوہر لوہیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے کانووکیشن کے دوران بھی گورنر آنندی بین پٹیل نے ہاسٹل میں غیر سبزی خور کھانا پیش کیے جانے پر ناراضی ظاہر کی تھی۔ یونیورسٹی نے اسی تناظر میں احتیاطی طور پر یہ مشاورتی ہدایت جاری کی ہے۔ اس سے قبل بھی گورنر مختلف تعلیمی اداروں کے ہاسٹل میس میں غیر سبزی خور کھانے کے انتظامات پر سوالات اٹھا چکی ہیں، تاہم موجودہ معاملے میں یونیورسٹی نے اسے صرف انتظامی مشورہ قرار دیا ہے، نہ کہ کسی باضابطہ پابندی کا نفاذ۔