پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا نے الزام عائد کیا کہ میٹنگ میں پارٹی کے مبینہ باغی اراکین پارلیمنٹ کو مدعو کیے جانے کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے واک آؤٹ کیا۔ مہوا موئترا نے صحافیوں سے کہا کہ کانگریس، سماجوادی پارٹی، ڈی ایم کے، عام آدمی پارٹی، نیشنل کانفرنس، بائیں بازو کی جماعتوں اور شیو سینا (یو بی ٹی) سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے میٹنگ سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔सभी विपक्षी दलों ने सर्वदलीय बैठक से कुछ मिनटों के लिए वॉकआउट किया। यह मोदी सरकार द्वारा NCPI को सर्वदलीय बैठक में आमंत्रित किए जाने के विरोध में था। NCPI फिलहाल TMC के 20 'बागी' सांसदों की पार्किंग का ठिकाना बनी हुई है, जबकि इस मामले पर लोकसभा अध्यक्ष का अंतिम निर्णय अभी लंबित…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) July 19, 2026اپوزیشن کا الزام تھا کہ ایک غیر تسلیم شدہ گروپ کو میٹنگ میں جگہ دی گئی، جبکہ لوک سبھا ٹیبل آفس کی فہرست میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کے 28 اراکین پارلیمنٹ درج ہیں۔ موئترا نے سوال اٹھایا کہ پارلیمانی امور کے وزیر نے پارٹی کے 20 مبینہ باغی اراکین پارلیمنٹ کو کس بنیاد پر میٹنگ میں مدعو کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اراکین کے انضمام کو اب تک لوک سبھا اسپیکر کی منظوری نہیں ملی ہے اور ان کے خلاف دائر 20 نااہلی کی درخواستیں اب بھی زیر التوا ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئین کی 91ویں ترمیم کے بعد الگ گروپ کی بنیاد پر کسی دھڑے کو تسلیم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’تمام اپوزیشن جماعتوں نے کل جماعتی اجلاس سے چند منٹ کے لیے واک آؤٹ کیا۔ یہ مودی حکومت کی جانب سے این سی پی آئی کو کل جماعتی اجلاس میں مدعو کیے جانے کے خلاف تھا۔ این سی پی آئی فی الحال ٹی ایم سی کے 20 ’باغی‘ اراکین پارلیمنٹ کا عارضی ٹھکانہ بنی ہوئی ہے، جبکہ اس معاملے پر لوک سبھا اسپیکر کا حتمی فیصلہ اب بھی زیر التوا ہے۔‘‘کانگریس رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے بھی اپوزیشن کے واک آؤٹ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے آئین کے تحفظ اور عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس اور شیو سینا کی حمایت میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی معاملے میں حتمی فیصلہ آنے سے پہلے کوئی نتیجہ نکال لینا مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔اجلاس کے بعد سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے بھی حکومت پر الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی رہنماؤں نے میٹنگ میں یہ سوال اٹھایا کہ سرکاری طور پر تسلیم شدہ ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کے بجائے پہلے مبینہ باغی اراکین کی فہرست کیوں دکھائی گئی۔ انہوں نے اسے حکومت کا غیر جمہوری اقدام قرار دیا۔کل جماعتی میٹنگ سے اپوزیشن کے واک آؤٹ پر جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کی رکن پارلیمنٹ مہوا ماجی نے کہا کہ آج ملک میں مختلف طریقوں سے اراکین پارلیمنٹ کو لالچ دے کر سیاسی جماعتوں کو منصوبہ بند انداز میں توڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مہاراشٹر میں بغاوت کرنے والے اراکین پارلیمنٹ کو کل جماعتی میٹنگ میں بلایا گیا، جبکہ اسپیکر نے اب تک انہیں باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔مہوا ماجی نے حلقہ بندی کے معاملے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندی کی جاتی ہے تو جھارکھنڈ جیسے ریاستوں میں درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے مخصوص نشستوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ یقین دہانی کرائے کہ کسی بھی ریاست کی نشستیں کم نہیں ہوں گی اور تمام اپوزیشن جماعتیں اس پر متفق ہوں، تو ان کی جماعت اپنے موقف پر دوبارہ غور کر سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اب تک اس معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔