بھارت : پلاسٹک کرنسی کی تیاری، کاغذی اور پولیمر نوٹ میں کیا فرق ہے؟

Wait 5 sec.

نئی دہلی : بھارت میں نئے کرنسی نوٹوں میں بڑی تبدیلی کی جا رہی ہے، ریزرو بینک (آر بی آئی) نے پلاسٹک یا پولیمر سے بنے نوٹ متعارف کرانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔بھارت میں روایتی کاغذی کرنسی کی جگہ مرحلہ وار پلاسٹک (پولیمر) نوٹ متعارف کرانے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 10 اور 20 روپے کے پولیمر نوٹ جاری کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد ملک میں دہائیوں سے رائج کاغذی کرنسی کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا کے لیے نوٹ چھاپنے والی کمپنی بھارتیہ ریزرو بینک نوٹ مُدرا پرائیویٹ لمیٹڈ نے ملک میں پولیمر سبسٹریٹ شیٹس کی مقامی تیاری کے لیے اظہارِ دلچسپی جاری کر دیا ہے۔اس اقدام کا مقصد ایسے شراکت دار کی تلاش ہے جو سیکیورٹی گریڈ پولیمر سبسٹریٹ کی تیاری میں مہارت رکھتا ہو، یہی خصوصی پلاسٹک وہ بنیادی مواد ہے جس پر کرنسی نوٹ چھاپے جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پلاسٹک کے نوٹ بنانے کا یہ اقدام صرف خام مال درآمد کرنے تک محدود نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور باہمی تعاون کے ذریعے بھارت میں پولیمر نوٹوں کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔پولیمر اور کاغذی نوٹ میں کیا فرق ہے؟ ماہرین کے مطابق پولیمر نوٹ کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں دو سے چھ گنا زیادہ عرصے تک قابلِ استعمال رہتے ہیں، جس سے طویل مدت میں کرنسی کی تیاری اور تبدیلی پر آنے والے اخراجات میں کمی آسکتی ہے۔پولیمر نوٹ نمی، پانی اور گردوغبار سے نسبتاً محفوظ ہوتے ہیں، جلد نہیں پھٹتے اور عام استعمال میں زیادہ دیر تک برقرار رہتے ہیں، اسی لیے دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی اس ٹیکنالوجی پر مبنی کرنسی اپنا چکے ہیں۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پولیمر نوٹوں کے اجرا کا مقصد موجودہ کاغذی کرنسی کو فوری طور پر ختم کرنا نہیں ہے۔ نئے پلاسٹک نوٹ متعارف ہونے کے بعد بھی موجودہ کاغذی نوٹ اپنی مدت تک قانونی حیثیت کے ساتھ گردش میں رہیں گے، جبکہ دونوں اقسام کی کرنسی ایک ساتھ استعمال کی جائے گی۔واضح رہے کہ دنیا کے 60 سے زائد ممالک پہلے ہی پولیمر کرنسی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ بھارت بھی اسی طرز کی جدید اور پائیدار کرنسی متعارف کرانے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عام لوگوں کے ہاتھوں میں یہ نئے نوٹ کب تک پہنچیں گے، لیکن اگر آزمائشی مرحلہ کامیاب رہا تو بھارت کے کرنسی نظام میں یہ ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔کرنسی نوٹ کاغذ سے نہیں بنتا تو کس سے بنتا ہے؟ جانیے اصل حقیقت