لکھنؤ میں ہندو مسلم اتحاد کانفرنس، مولانا ارشد مدنی کا نفرت کے ماحول کے خلاف ملک گیر مہم کا اعلان

Wait 5 sec.

لکھنؤ میں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے زیر اہتمام منعقدہ ہندو مسلم اتحاد کانفرنس میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت اور فرقہ واریت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند محبت، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ایک ملک گیر تحریک کا آغاز کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند ایک مذہبی اور سماجی تنظیم ہے، اس کا سیاست یا انتخابی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں نفرت کی سیاست نے ملک کے سماجی ماحول کو شدید متاثر کیا ہے اور اس کے اثرات نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نفرت کی ان آندھیوں میں محبت کے چراغ روشن کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہے اور اس مہم میں ہر انصاف پسند شہری کو شامل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک میں پائیدار تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے ہم خیال افراد متحد ہو کر نفرت اور تعصب کے خلاف آواز بلند کریں۔انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جدوجہد میں علماء نے نمایاں کردار ادا کیا اور ملک کے اتحاد و سالمیت کے لیے قربانیاں پیش کیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی بنیاد پر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کیرالا کے سیلاب متاثرین کی امداد اور آسام میں شہریت کے مسئلے سے متعلق قانونی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے بلا امتیاز تمام ضرورت مندوں کی مدد کی ہے۔مولانا مدنی نے تعلیمی نظام میں مسلسل پیپر لیک کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے اور ایسے کمزور نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مولانا محمد علی جوہر یونی ورسٹی سے متعلق تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر نقشہ کی منظوری سے متعلق کوئی قانونی مسئلہ ہو تو اس کا حل قانونی اور انتظامی طریقے سے نکالا جانا چاہیے اور اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔کانفرنس میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہنومان سنکٹ موچن مندر، بنارس کے مہنت ڈاکٹر بشمبر ناتھ مشرا نے کہا کہ ملک کی آزادی میں تمام مذاہب کے لوگوں کی قربانیاں شامل ہیں اور اس مٹی کو کسی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ناانصافی کے خلاف ہر شہری کو آواز اٹھانی ہوگی اور سچ بولنے کی روایت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے مولانا ارشد مدنی کی جانب سے شروع کی گئی اس تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔سپریم کورٹ کی نامور وکیل اندرا جے سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے اور کسی بھی قسم کے امتیاز کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات پر انہیں تشویش رہی ہے، تاہم اس کانفرنس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کی مشترکہ شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی مشترکہ تہذیب اور بھائی چارے کی روایت آج بھی مضبوط ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو راستہ دکھانے والا دانشور طبقہ خاموش ہے، جبکہ ایسے حالات میں اس طبقے کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا اسجد مدنی نے کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کا مقصد فرقہ واریت، نفرت اور سماجی دوریوں کا خاتمہ کرکے محبت، رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں مختلف مقامات پر ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے جن میں علماء، مذہبی رہنما، دانشور، خواتین، نوجوان اور سماجی کارکن شریک ہوں گے۔کانفرنس سے جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صدر مولانا اشہد رشیدی سمیت بودھ، عیسائی اور سکھ مذہب کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور مولانا ارشد مدنی کی اس مہم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔