لندن : برطانیہ میں 18 سالہ طالب علم کے قتل کے مقدمے میں ملوث قاتل کی ماں کو ثبوت چھپانے کے جرم میں 3 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمہ کرن کور نے 3 دسمبر 2025 کی شب اپنے بیٹے وکرم ڈگوا کی مدد کرتے ہوئے قتل میں استعمال ہونے والا چاقو جائے وقوعہ سے اٹھا کر قریبی گھر میں چھپا دیا تھا۔جس پر عدالت نے اسے جرم کے شواہد چھپانے اور پولیس کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے میں ملوث قرار دیا۔اس سے قبل 23 سالہ وکرم ڈگوا کو 18 سالہ فنانس کے طالب علم ہنری نوواک کے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی جاچکی ہے، جبکہ عدالت نے اسے کم از کم 21 سال قید کاٹنے کا حکم دیا تھا۔سزا کا فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا کہ والدین کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنے فعل پر جوابدہ بناتے اور قانون کا سامنا کرنے کی ترغیب دیتے، مگر اس کے برعکس ملزمہ نے قتل میں استعمال ہونے والا چاقو گھر لے جا کر اس کے بیٹے کے کمرے میں موجود دیگر مذہبی اور روایتی ہتھیاروں کے ساتھ رکھ دیا، جس سے ثبوت چھپانے میں مدد ملی۔عدالت کو بتایا گیا کہ وکرم ڈگوا نے ابتدا میں پولیس کو جھوٹی کہانی سناتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس پر حملہ ہوا ہے، تاہم دو روز سے بھی کم عرصے بعد اس نے اعتراف کر لیا کہ اسی نے ہنری نوواک کو چاقو کے وار کرکے قتل کیا۔سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ملزم اپنے بھائی کے ساتھ مشترکہ کمرے میں سکھ مذہبی خنجروں (کرپان) سمیت مختلف ہتھیار رکھتا تھا اور کم عمری سے ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت حاصل کرنے کے باعث ان کے استعمال میں مہارت رکھتا تھا۔استغاثہ کے مطابق وکرم ڈگوا نے رات گئے گھر واپس جانے والے ہنری نوواک پر کرپان سے پانچ وار کیے، جن میں سینے پر لگنے والا تقریباً 8 سینٹی میٹر گہرا زخم جان لیوا ثابت ہوا۔حملے کے بعد زخمی نوجوان جان بچانے کے لیے باڑ پھلانگنے کی کوشش کرتا رہا جبکہ ملزم اس کی ویڈیو بھی بناتا رہا۔ مقتول شدید زخمی حالت میں تقریباً 57 منٹ بعد دم توڑ گیا۔پراسیکیوشن نے مزید بتایا کہ ملزم نے پولیس کو نسل پرستانہ حملے کی جھوٹی اطلاع دے کر گمراہ کیا، جس کے باعث زخمی ہنری نوواک کو موقع پر ہی ہتھکڑی لگا دی گئی تھی تاہم وہ بعد ازاں ہلاک ہوگیا۔