احمد آباد: پٹاخہ فیکٹری میں شدید دھماکہ، آگ لگنے کے سبب 8 لوگوں کی موت، وزیر اعظم مودی کا اظہار افسوس

Wait 5 sec.

گجرات کے احمد آباد میں ہفتہ (18 جولائی) کو غیر قانونی طور پر چلنے والی پٹاخوں کی ایک فیکٹری میں ہولناک دھماکہ ہو گیا۔ یہ حادثہ رامول-گاتراڈ روڈ نہر کے کنارے کھلے میدان میں چلنے والی ایک یونٹ میں پیش آیا۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ آس پاس کے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر 2 افراد کی موت کی اطلاع ملی تھی، لیکن امدادی اور بچاؤ کی کارروائی آگے بڑھنے پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 8 ہو گئی۔ اس حادثے میں 8 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں علاج کے لیے قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ فائر بریگیڈ اور بچاؤ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پا لیا۔ افسران نے بتایا کہ فی الحال صورتحال قابو میں ہے۔Blast at 'Illegal' Firecracker Factory in Ahmedabad; 8 Killed and Several Injuredhttps://t.co/NTGFpTPDGx pic.twitter.com/mURPjrFd6l— DeshGujarat (@DeshGujarat) July 18, 2026پولیس نے کہا کہ فیکٹری غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھی۔ اس معاملے میں غیر ارادتاً قتل سے متعلق دفعات اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا جائے گا۔ دھماکے کی وجوہات کا پتہ لگانے اور حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کی جانچ کے لیے فارنزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں کی ٹیموں کو موقع پر بلایا گیا ہے۔جوائنٹ پولیس کمشنر جے پال سنگھ راٹھور نے بتایا کہ پولیس، احمد آباد میونسپل کارپوریشن اور 108 ایمبولینس سروس کی ٹیموں نے فوری طور پر امدادی اور بچاؤ کی کارروائی شروع کی۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اب تک 8 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 8 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔آر اے ایف 100 کے کمانڈنٹ آفیسر رتول داہ نے بتایا کہ دوپہر 3:24 بجے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی۔ اس کے فوراً بعد کوئیک ری ایکشن ٹیم، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ بچاؤ کی کارروائی کے دوران کئی لاشیں اور زخمی افراد جائے وقوعہ سے تقریباً 50 میٹر دور آس پاس کے کھیتوں میں بکھرے ہوئے ملے۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا اور ہلاک ہونے والوں کی لاشیں بھی اسپتال پہنچائی گئیں۔پولیس اب اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ فیکٹری کے مالکان کے پاس قانونی لائسنس تھا یا نہیں۔ اگر کوئی بےضابطگی یا قانون کی خلاف ورزی پائی گئی، تو ایف آئی آر درج کر کے متعلقہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ریسکیو اور سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے اور تحقیقات کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات کا پتہ لگایا جائے گا۔Extremely saddened to hear about the loss of lives due to a mishap at a fireworks factory in Ahmedabad, Gujarat. My thoughts are with the bereaved families in this hour of grief. Praying for the speedy recovery of the injured. The local administration is providing all possible…— PMO India (@PMOIndia) July 18, 2026دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے پٹاخہ فیکٹری میں پیش آنے والے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’گجرات کے احمد آباد میں پٹاخوں کی ایک فیکٹری میں حادثے کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید دکھ ہوا ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔ مقامی انتظامیہ متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ ’’وزیر اعظم کے قومی امدادی فنڈ (پی ایم این آر ایف) سے ہر مرنے والے کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی، جبکہ ہر زخمی کو 50,000 روپے دیے جائیں گے۔‘‘