مدھیہ پردیش کے کئی حصوں میں بارش کم ہونے کے باعث زراعت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کو خط لکھ کر کسانوں کو راحت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ ’’ریاست میں اب تک معمول سے تقریباً 15 فیصد کم بارش درج ہوئی ہے اور 55 میں سے 28 اضلاع میں معمول سے 16 فیصد سے لے کر 78 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔‘‘مدھیہ پردیش میں گیہوں کی خریداری میں گڑبڑی پر افسران پر بھی ہو کارروائی: جیتو پٹواریجیتو پٹواری نے مزید لکھا کہ علی راج پور، ریوا، مئو گنج، سیدھی، سنگرولی، منڈلا، شہڈول، ساگر، رائسین، شیوپوری اور جبل پور سمیت کئی اضلاع میں صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ کئی مقامات پر بوائی رک گئی ہے تو کہیں پہلے سے بوئی گئی فصلیں سوکھنے لگی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریوا ڈویژن میں دھان کی صرف 41 فیصد بوائی ہو سکی ہے۔ نرمدا پورم میں تقریباً 38 فیصد کھیت اب بھی خالی ہیں اور دھان کی صرف 62 فیصد بوائی ہوئی ہے۔جیتو پٹواری کے مطابق رائسین میں 2.80 لاکھ ہیکٹر دھان کی کاشت کے ہدف کے مقابلے میں صرف 65 ہزار ہیکٹر میں ہی روپائی ہو سکی ہے۔ جبل پور، ستنا، مہر، علی راج پور سمیت کئی اضلاع میں دھان، مکئی، کپاس اور سویا بین کی فصلیں بھی خطرے میں ہیں۔ ریاستی کانگریس صدر نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کے تمام متاثرہ اضلاع میں خصوصی ’گرداوری سروے‘ (فصلوں کا معائنہ) کرا کر فصلوں کے حقیقی نقصان کا اندازہ لگایا جائے۔ جن علاقوں میں بوائی متاثر ہوئی ہے، وہاں کسانوں کو دوبارہ بوائی کرنے کے لیے خصوصی مالی امداد اور مفت بیج فراہم کیے جائیں۔کانگریس لیڈر جیتو پٹواری کا مطالبہ ہے کہ ڈیزل، بجلی اور آبپاشی کے لیے خصوصی امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے، تاکہ کسان آبپاشی کے متبادل انتظامات کر سکیں۔ ’پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا‘ کے تحت فوری سروے کروا کر کسانوں کو جلد از جلد معاوضہ فراہم کیا جائے۔