خاتون صحافیوں شاہین اور نفیسہ کے ساتھ دہلی پولیس کی مبینہ زیادتی سرخیوں میں ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے گزشتہ دنوں شاہین اور نفیسہ سے ملاقات بھی کی تھی، جس کے بعد دہلی پولیس اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اب کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اس ملاقات کی ویڈیو ’ایکس‘ پر شیئر کی ہے، جس میں شاہین اور نفیسہ آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ اپنے اوپر دہلی پولیس کے مظالم کی داستان سنا رہی ہیں۔ خاص طور سے نفیسہ پولیس بربریت کا ذکر کرتے ہوئے کئی بار رو پڑیں۔جنتر منتر پر خاتون صحافی سے بدسلوکی پر حکومت جواب دے: راہل گاندھیشاہین اور نفیسہ سے ہوئی ملاقات کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’دہلی میں اس وقت جو ہو رہا ہے، اس کا ایک ہی پیٹر ہے۔ جو عورت سوال پوچھے، اسے خاموش کراؤ۔ جنتر منتر پر سینکڑوں لوگ حراست میں لیے گئے۔ خاتون مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مرد پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ خاتون صحافیوں کے کیمرے چھینے گئے، انھیں گھسیٹا گیا۔ ایک صحافی کی شکایت پر ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’کچھ ہفتوں قبل شاہین اور نفیسہ نے ساکیت تھانہ کے اندر اپنے ساتھ ہوئے تشدد اور بدسلوکی سے متعلق داستان سنائی ہے۔ سوچیے، ظلم تھانے کے اندر ہوا... وہ جگہ جہاں خواتین شکایت لے کر جاتی ہیں۔‘‘اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ ’’جن پر خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، وہی آج ان کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ اور دہلی پولیس کس کے ماتحت ہے، یہ پورا ملک جانتا ہے۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’ساکیت تھانے کا پورا سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر لایا جائے۔ قصوروار پولیس اہلکاروں پر فوراً کارروائی ہو۔ شاہین، نفیسہ اور جن کے ساتھ بھی دہلی پولیس نے تشدد و بدتمیزی کی ہے، ان کو انصاف ملے۔‘‘ آخر میں وہ تلخ انداز اختیار کرتے سوال کرتے ہیں کہ ’’امت شاہ جی... آپ اور آپ کی پولیس خواتین سے ڈرتی کیوں ہے؟‘‘दिल्ली में इस वक़्त जो हो रहा है, उसका एक ही पैटर्न है - जो औरत सवाल पूछे, उसे चुप कराओ।जंतर-मंतर पर सैकड़ों लोग हिरासत में लिए गए। महिला प्रदर्शनकारियों ने आरोप लगाया कि पुरुष पुलिसकर्मियों ने उनके साथ बदसलूकी की। महिला पत्रकारों के कैमरे छीने गए, उन्हें घसीटा गया। एक पत्रकार… pic.twitter.com/DcpuxLJoHj— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 5, 2026تقریباً 10 منٹ کی اس ویڈیو میں شاہین اور نفیسہ نے اپنے ساتھ ہوئے سلوک کی داستان اس درد و کرب کے ساتھ سنائی ہے کہ عام لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جائے۔ دونوں راہل گاندھی کو بتاتی ہیں کہ پہلے تو مرد پولیس اہلکاروں نے بدسلوکی والا رویہ اختیار کیا، اور پھر ایک خاتون پولیس اہلکار نے تھانہ میں اوپر لے جا کر ڈنڈوں سے خوب پٹائی کی۔ نفیسہ نے یہ بھی بتایا کہ جب پولیس والوں کو پتہ چلا کہ وہ مسلم ہے، تو ظلم و بربریت کی انتہا مزید بڑھ گئی۔ شاہین کا کہنا ہے کہ ایک وقت جب حالت انتہائی بری ہو گئی اور ٹیبل پر رکھا پانی پینے کے لیے مانگا گیا، تو پیاسہ رکھنے اور ناکردہ گناہ کی سزا دینے کی بات کہی گئی۔ شاہین اور نفیسہ نے راہل گاندھی سے گزارش کی کہ وہ انصاف دلائیں اور خاص طور سے ان 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کیا جانا چاہیے، جنھوں نے مذہب کی بنیاد پر ظلم کیا اور قانون و آئین کی ذرا بھی پروا نہیں کی۔