امریکی ریاست کیلیفورنیا کے حکام نے صدر ٹرمپ کے اس بیان شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ایران لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ‘تباہ’ کر سکتا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیبراسکا میں اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے کسی بڑے شہر، جیسے لاس اینجلس یا سان ڈیاگو کو "تباہ” کر سکتا ہے۔اس بیان پر کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک رہنماؤں اور ان کی اپنی جماعت (ریپبلکن) کے کچھ ارکان کی جانب سے فوری اور سخت تنقید کی گئی۔پیر کے روز ریاست کے زرعی علاقے میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے جنگ کے دوران امریکی معاشی قربانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ "ایک شاندار فتح دیکھنے” کے لیے پرعزم ہیں، "کیونکہ یہ ان تمام اقدامات کی تصدیق کرتی ہے جو ہم نے کیے۔”نیبراسکا کے شہر گرانڈ آئی لینڈ میں مجمع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "اور پھر یاد رکھیں، جنگ کے حوالے سے (معاشی اثرات) محض مصنوعی ہیں، قیمتیں کچھ زیادہ ہیں لیکن یہ ادا کی جانے والی ایک معمولی قیمت ہے بظاہر ان کا اشارہ ایندھن، کھاد اور دیگر مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی طرف تھا جو جنگ کے باعث توانائی کی منڈی میں خلل کی وجہ سے بڑھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو محفوظ رکھنے اور اپنے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک معمولی قیمت ہے وہ کسی شہر کو تباہ کر سکتے ہیں۔ انہیں لاس اینجلس تباہ کرنے دیں، انہیں سان ڈیاگو تباہ کرنے دیں؟ یہ ادا کی جانے والی بہت معمولی قیمت ہے، اور یہ سب بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔انہوں نے یہ بات وسط مدتی انتخابات سے تقریباً ایک ماہ قبل کہی، جن کے نتیجے میں ڈیموکریٹس دوبارہ کانگریس کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ تنازعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی کے خدشات کو مسترد کر چکے ہیں، اور یہاں تک کہ ایران یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے امریکی سرزمین پر ممکنہ حملے کے خدشات کو بھی کم اہمیت دے چکے ہیں۔تاہم پیر کے روز دیے گئے بیانات پر کیلیفورنیا کے حکام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ریپبلکن صدر کو "ذہنی توازن کھو دینے والا اور خطرناک” قرار دیا۔ انہوں نے ‘ایکس’ (X) پر لکھا، "کیلیفورنیا پر قبضہ کرنے کے لیے نیشنل گارڈ اور میرینز کو بھیجنے کے بعد، ڈونلڈ ٹرمپ اب کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بیرونی دشمنوں کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ‘تباہ’ کر دینا چاہیے۔”ڈیموکریٹ رہنما نیوسم—جنہوں نے خود کو ٹرمپ کے ایک بڑے سیاسی حریف کے طور پر پیش کیا ہے اور جنہیں 2028 میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے ایک ممکنہ امیدوار سمجھا جاتا ہے، نے نیبراسکا میں ٹرمپ کی ایک ویڈیو کلپ کا موازنہ صدر کے اس سابقہ بیان سے کیا جس میں انہوں نے جرائم کے خاتمے اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے لاس اینجلس اور دیگر شہروں میں امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی کا جواز پیش کیا تھا۔