’ذرا بھی شرم ہے تو اب استعفیٰ دے دیں‘، جسٹس بھوئیاں کے تبصرہ پر اپوزیشن نے گیانیش کمار کو دی نصیحت

Wait 5 sec.

جسٹس اُجول بھوئیاں کے ذریعہ الیکشن کمیشن پر کیے گئے تبصرہ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے لیے مشکلیں مزید بڑھا دی ہیں۔ اپوزیشن نے ایک بار پھر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ زور و شور سے کرنا شروع کر دیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جسٹس بھوئیاں کی وہ ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں وہ ووٹ کا حق تلف کیے جانے پر اپنی فکر ظاہر کر رہے ہیں۔ اس پوسٹ کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’بے خوف جسٹس اُجول بھوئیاں کل حیدر آباد کی نالسار یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے نظر آئے، جہاں انھوں نے چیف الیکشن کمشنر کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’اگر گیانیش کمار میں ذرا بھی شرم باقی ہے تو انھیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’جی-2 کے غیر قانونی احکامات پر عمل درآمد کرنے کی ان کی صلاحیت اب انھیں ملک کے لیے ایک بوجھ بنا چکی ہے۔‘‘Here is the bold Justice Ujjal Bhuyan speaking yesterday in NALSAR University in Hyderabad where he exposed the CEC lock, stock and barrel. If he has any sense of shame Gyanesh Kumar must quit right away. His ability to execute G2’s illegal orders have now made him a liability… https://t.co/KNVazhhKwP— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) October 5, 2026اس معاملہ پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ جاری کی ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’میں ہندوستان میں جمہوریت کو بچانے کے لیے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے شہریوں کے حق کا مسئلہ اٹھانے پر سپریم کورٹ کے موجودہ جج اجول بھوئیاں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ چیف جسٹس صاحب، اب آپ کے کیریئر میں کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے، سوائے شاید ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والے فوائد کے۔ اگر آپ کو برا لگے تو براہ کرم مجھے معاف کریں، لیکن اگر معزز سپریم کورٹ کو لگتا ہے کہ میں عدالت کی توہین کر رہا ہوں تو میں جیل جانے کو بھی تیار ہوں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’میں 1972 سے عوامی زندگی میں ہوں اور 1977 سے ریاستی اور مرکزی اسمبلیوں/پارلیمنٹ کا رکن رہا ہوں۔ عدلیہ کے تئیں میرا ہمیشہ احترام رہا ہے۔ آپ 1993 سے 2003 کے درمیان مدھیہ پردیش کے رہے ریٹائرڈ چیف جسٹسوں سے پوچھ سکتے ہیں، لیکن میں نے کبھی بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے شہریوں کے حقوق کے خلاف اتنی یک طرفہ زیادتی ہوتے نہیں دیکھی۔‘‘ آخر میں چیف الیکشن کمیشن کو نشانے پر لیتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’’مسٹر گیانیش کمار، آپ کو شرم آنی چاہیے۔ آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔‘‘I Congratulate Hon Ujjal Bhuyan sitting Judge of Supreme Court for taking up the Cause of the Citizens Rights for a Free and Fair Elections to save Democracy in India. Hon CJI Sahab Supreme Court Your Lordship, you have nothing to lose in your Career now except maybe “Post…— Office Of Digvijaya Singh (@OfficeOfDVS) October 5, 2026ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا رکن ساگریکا گھوش نے بھی جسٹس اجول بھوئیاں کے تبصرے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر کسی طریقہ کار کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں ہندوستانی شہری اپنے حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں اور اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کے شہری بن جاتے ہیں تو ایسا طریقہ کار بنیادی طور پر منمانا ہے۔ اسے کسی بھی طرح کی دلیل یا ’لیکن مگر‘ سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ آئین کی بنیادی روح پر حملہ ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’سپریم کورٹ کے ایک جج نے اب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے جرم کو واضح کر دیا ہے۔ کیا اب اعلیٰ عدالت کے دیگر ججوں کا ضمیر بھی اس شدید ناانصافی کے خلاف بیدار ہوگا؟ اس کے باوجود ’گجراتی جوڑی نمبر 1‘ کی کٹھ پتلی، بے شرم گیانیش کمار اپنی کرسی سے چپکے ہوئے ہیں۔‘‘“If any process results in disenfranchising millions and millions of Indian citizens -- making them second-class citizens in their own country -- such a process is intrinsically arbitrary.. No amount of whataboutery can justify it.. strikes at the very heart of the Constitution…— Sagarika Ghose (@sagarikaghose) October 5, 2026دراصل جسٹس بھویان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کسی بھی طرح کی دلیلیں ووٹ دینے کا حق چھیننے کو درست قرار نہیں دے سکتیں۔ آئین کے آرٹیکل 326 کے تحت حاصل ووٹ دینے کے حق سے کوئی بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا کوئی بھی طریقہ کار منمانا ہے جو لاکھوں ہندوستانیوں کو ووٹ دینے کے حق سے روکتا ہے۔ اسے کوئی بھی بہانہ درست قرار نہیں دے سکتا۔ ایسا طریقہ کار آئینی نظام کو مسترد کرتا ہے۔