تہران(5 اکتوبر 2026): ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر ریئر ایڈمرل علی فدوی اپنی سزائے موت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کے بعد ایرانی سرکاری ٹی وی پر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر ریئر ایڈمرل علی فدوی اتوار کے روز ایرانی سرکاری ٹی وی پر منظرِ عام پر آ گئے، جس کا مقصد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کی تردید کرنا تھا جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ انہیں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ٹی وی انٹرویو کے دوران علی فدوی نے اپنی اہلیہ سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں پر بھی روشنی ڈالی اور ان کے بارے میں بتایا کہ وہ 2025کی 12 روزہ جنگ کے دوران شہید ہو گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی مرحومہ اہلیہ نے ‘شجرہ طیبہ’ کے نام سے تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی تھی، جن میں ایک اسکول جنگ کے دوران میناب میں بمباری کی زد میں آ گیا تھا۔علی فدوی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں اپنی مرحومہ اہلیہ کو یاد کرنا چاہوں گا جو 12 روزہ جنگ کے دوران اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ انہوں نے شجرہ طیبہ اسکولوں کی بنیاد رکھی تھی اور مجموعی طور پر 97 اسکول قائم کیے تھے۔‘امریکی افواج ایران کی سرحدوں سے 1 ہزار کلو میٹر دور پیچھے ہٹ گئیں: ایرانی کمانڈر ایرانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج ایران کی سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر دور پیچھے ہٹ گئی ہیں۔علی فدوی کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے یہ انخلا اپنی مرضی سے نہیں کیا، بلکہ یہ ایران اور پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورس کی طاقت کا نتیجہ ہے کہ انہیں اپنی پوزیشنز پیچھے ہٹانا پڑی ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ خلیج، آبنائے ہرمز، بحیرۂ عمان اور شمالی بحرِ ہند میں کوئی بھی امریکی بحری جہاز موجود نہیں ہے۔ایرانی کمانڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ اس وقت تمام امریکی جنگی جہاز پاسدارانِ انقلاب کے مکمل نشانے پر ہیں۔ آبنائے ہرمز بدستور مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے، پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے امریکی نگرانی میں آبنائے کے جنوبی راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کو سخت خبردار کیا ہے کہ انہیں کسی بھی وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان اور عراق میں ناکام رہا ہے اور اگر اس نے کوئی نیا قدم اٹھایا تو وہ ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہوگا۔