امریکا نے چینی خاتون پر جاسوسی کا الزام لگا کر گرفتار کر لیا

Wait 5 sec.

واشنگٹن: امریکا نے کیلیفورنیا کی رہائشی ایک چینی خاتون پر چین کے لیے جاسوسی اور تائیوانی صدر کے بیٹے کی نگرانی کا الزام لگاتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔روئٹرز کے مطابق ایف بی آئی نے بتایا کہ امریکی حکام نے اتوار کو کیلیفورنیا کی ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے اور اس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے چینی حکام کی ہدایت پر تائیوان کے صدر کے ایک بیٹے کی جاسوسی کی۔ایف بی آئی کے بیان کے مطابق ادارے نے وان ینگ ژانگ، جو ہیدر (Heather) کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، کو اتوار کو لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ چین روانہ ہونے والی تھی۔ حکام نے کیلیفورنیا کے شہر ارون کی رہائشی 34 سالہ ژانگ پر غیر رجسٹرڈ غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ایف بی آئی کے مطابق ژانگ نے تائیوان کے صدر لائی چنگ تے کے ایک بیٹے کی نگرانی کی۔ ادارے نے براہِ راست ژانگ کے مبینہ ہدف کا نام نہیں بتایا، تاہم بعد میں نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ شیئر کی، جس میں اس شخص کی شناخت لائی ٹنگ یو (Lai Ting-yu) کے طور پر کی گئی ہے، جو امریکا کا رہائشی ہے۔امریکا نے برطانوی ایئر بیس سے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیےتائیوان کے صدارتی دفتر نے ژانگ کی سرگرمیوں کو ’’سرحدوں سے ماورا ریاستی جبر کی ایک مثال قرار دیا اور تائیوانی شہریوں کے تحفظ پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ ترجمان کیرن کوو نے ایک بیان میں کہا ’’ہمارا ملک انسانی حقوق اور اقوام کی خودمختاری کو نظر انداز کرنے والے ایسے وحشیانہ طرزِعمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘‘واضح رہے کہ لائی اور ان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی چین سے تائیوان کی الگ شناخت کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ مؤقف اکثر بیجنگ کو ناراض کرتا ہے، جو اس جزیرے کو چینی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے۔ لائی کا کہنا ہے کہ تائیوان کے مستقبل کا فیصلہ صرف تائیوان کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔امریکی محکمۂ انصاف نے کہا کہ ژانگ نے چینی حکام کی ہدایت پر 2025 میں سیئٹل کا سفر کیا اور انھیں تائیوانی صدر کے بیٹے اور ان کے خاندان کی تصاویر، ویڈیوز اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں سے متعلق معلومات بھیجیں۔ حکام کے مطابق ژانگ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے جاسوسی کے پیشہ ورانہ طریقے استعمال کیے اور واشنگٹن کو کبھی مطلع نہیں کیا کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام کر رہی ہے۔چینی خاتون ژانگ پیر کو لاس اینجلس کی وفاقی عدالت میں پیش ہوں گی۔ واضح رہے کہ واشنگٹن کے تائیوان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، تاہم امریکا اس جزیرے کا سب سے اہم بین الاقوامی حمایتی اور ہتھیار فراہم کرنے والا ملک ہے۔