جے ڈی اے کی انہدامی کارروائی پر جے پور کے تاجروں میں غصہ، ’پٹہ ہونے کے باوجود دکانیں توڑ دی گئیں‘

Wait 5 sec.

جے پور: راجستھان کی راجدھانی جے پور میں سڑک چوڑی کرنے کے نام پر جے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) کی انہدامی کارروائی کے بعد مقامی تاجروں اور رہائشیوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ جے ڈی اے نے سوڈالا تراہے سے گوجر کی تھڑی تک نیو سانگانیر روڈ پر مبینہ تجاوزات ہٹانے کے لیے کارروائی کی، جس کے دوران کئی دکانوں اور دیگر تعمیرات کو منہدم کر دیا گیا۔متاثرہ تاجروں کا الزام ہے کہ جے ڈی اے نے کارروائی میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی اور ایسی تعمیرات کو بھی تجاوزات قرار دے کر توڑ دیا جن کے مالکان کے پاس قانونی دستاویزات اور پٹہ موجود ہے۔ تاجروں نے کارروائی کو من مانی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جے ڈی اے سے انہدام کی بنیاد واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سوڈالا علاقے کے ایک دکاندار رمیش نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جگہ باقاعدہ طور پر مجاز ہے اور وہاں کسی قسم کا غیر قانونی قبضہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ان کے پاس سوسائٹی کا باقاعدہ پٹہ بھی موجود ہے، اس کے باوجود جے ڈی اے اسے تجاوزات قرار دے رہا ہے۔رمیش نے کہا کہ اگر جے ڈی اے کے مطابق ان کی تعمیر تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے تو حکام کو اس کا ثبوت دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جگہ سے متعلق تمام کاغذات اور پٹہ موجود ہیں، اس لیے یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ تجاوزات کس بنیاد پر قرار دی گئی ہیں۔سہارنپور کلکٹریٹ مسجد انہدام: ’مسجد وہیں تعمیر ہوگی، عدالت میں ہم فتحیاب ہوں گے‘، رکن پارلیمنٹ اقرا حسنکارروائی سے متاثر ایک خاتون دکاندار نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہدام کی وجہ سے ان کا بچہ بے روزگار ہو گیا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ جے ڈی اے اپنی مرضی سے کارروائی کر رہا ہے اور حکام نے متاثرہ عمارتوں پر درست طریقے سے نشانات بھی نہیں لگائے۔خاتون کے مطابق ابتدا میں کہا گیا تھا کہ صرف سات فٹ تک کا حصہ توڑا جائے گا۔ اسی بنیاد پر متعدد دکانداروں نے خود ہی اپنی دکانوں اور عمارتوں کا کچھ حصہ توڑ دیا، لیکن بعد میں حکام کی جانب سے فٹ پاتھ توڑنے کی بات کہی جانے لگی۔’بابری مسجد انہدام انکوائری کمیشن‘ کے چیئرمین جسٹس لبراہن کا 87 سال کی عمر میں انتقالایک اور متاثرہ خاتون نے کہا کہ اگر پہلے واضح طور پر بتایا جاتا کہ کس حصے کو اور کس حد تک توڑا جائے گا تو وہ اس کے مطابق تیاری کرتیں۔ ان کے مطابق سات فٹ تک تعمیر ہٹانے کی بات پر انہوں نے خود عمارت کا حصہ گرا دیا، لیکن درست پیمائش اور مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے، جبکہ انہیں اب بھی معلوم نہیں کہ جے ڈی اے دوبارہ کب کارروائی کرے گا۔ متاثرین نے مطالبہ کیا کہ اگر کوئی حصہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے تو اس کی واضح پیمائش اور قانونی بنیاد بتائی جائے اور کارروائی ایک ہی مرتبہ مکمل کی جائے، تاکہ انہیں بار بار نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔