ملک کی 3 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام خطہ میں 6 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کے لیے آج ووٹنگ کرائی جا رہی ہے۔ ووٹر صبح سے ہی قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈال رہے ہیں۔ اس انتخابی معرکے میں بی جے پی، کانگریس، ٹی ایم سی، ڈی ایم کے، ٹی وی کے، سی پی آئی سمیت کئی اہم سیاسی پارٹیاں آمنے سامنے ہیں۔ مغربی بنگال میں نندی گرام اور ریجی نگر سیٹ سب سے زیادہ زیر بحث ہیں۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو میں مدورانتکم اور دھاراپورم اسمبلی سیٹوں کے ساتھ ساتھ پڈوچیری میں تھٹنچاوڈی اور آسام میں ناگاؤں لوک سبھا سیٹ پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ یہ سیٹیں اس وقت خالی ہوئی تھیں جب ایک سے زیادہ سیٹوں پر کامیاب ہونے والے اراکین اسمبلی یا اراکین پارلیمنٹ نے ایک سیٹ اپنے پاس رکھی اور دوسری سیٹ سے استعفیٰ دے دیا۔ بہرحال، سبھی 6 نشستوں پر ووٹنگ آج صبح 7 بجے شروع ہو گئی ہے، جو شام 6 بجے تک جاری رہے گی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 9 اکتوبر کو ہوگی۔ حکام نے بتایا کہ پُرامن ووٹنگ یقینی بنانے کے لیے خاطر خواہ سیکورٹی سمیت تمام ضروری تیاریاں کی گئی ہیں۔نندی گرام اور ریجی نگر پر زبردست انتخابی معرکہمغربی بنگال میں سب کی نظریں نندی گرام اور ریجی نگر پر ہیں۔ نندی گرام اور ریجی نگر میں آج ہونے والی ووٹنگ محض 2 اسمبلی سیٹوں کے ضمنی انتخابات نہیں ہیں۔ مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ کر کے اقتدار میں آنے والی بی جے پی کے لیے یہ پہلا انتخابی امتحان ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان ضمنی انتخابات سے یہ بھی اشارہ ملنے کی امید ہے کہ بکھرے ہوئے اپوزیشن میں کون سی پارٹی بی جے پی کے سامنے اہم چیلنج کے طور پر ابھر سکتی ہے۔9 اکتوبر کو ہوگی ووٹوں کی گنتیان ضمنی انتخابات سے مئی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بی جے پی حکومت کے تئیں ووٹروں کے ابتدائی ردعمل کا اندازہ ہوگا۔ وہیں اپوزیشن پارٹیاں بکھرے ہوئے سیاسی میدان میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حکمراں پارٹی اور اس کے حریف انتخابات میں اقلیتی ووٹروں کے ووٹنگ رجحان کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں اسمبلی حلقوں میں آج ووٹنگ ہو رہی ہے اور ووٹوں کی گنتی 9 اکتوبر کو ہوگی۔یہاں نندی گرام کی سیاسی اہمیت کے ساتھ ساتھ جذباتی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ بی جے پی نے ہسی رانی رتھ کو میدان میں اتارا ہے۔ وہ چندرناتھ رتھ کی والدہ ہیں، جو وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے قریبی ساتھی تھے اور اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے کچھ ہی عرصے بعد ہلاک کر دیے گئے تھے۔ وہیں اپوزیشن نے مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ ممتا بنرجی کی قیادت والے ٹی ایم سی گروپ نے اپنے امیدوار کا نام واپس لینے کے بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ رتبرت بنرجی کی قیادت والے حریف ترنمول گروپ نے محمد احتشام الحق کو میدان میں اتارا ہے۔ سی پی آئی بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئی ہے۔ریجی نگر میں بی جے پی، کانگریس، سی پی آئی-ایم، ٹی ایم سی کے 2 گروپ اور عام جنتا انّین پارٹی (اے جے یو پی) آمنے سامنے ہیں۔ اے جے یو پی نے غلام نبی آزاد کو میدان میں اتارا ہے، جو سابق رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کے بیٹے ہیں۔ ہمایوں کبیر نے نودا سیٹ اپنے پاس رکھنے کے بعد یہ سیٹ چھوڑ دی تھی۔آسام اور تمل ناڈو میں بھی ضمنی انتخاباتآسام کے مسلم اکثریتی لوک سبھا حلقہ ناگاؤں اور تمل ناڈو کی 2 اسمبلی سیٹوں پر بھی ضمنی انتخابات دلچسپ ہو گئے ہیں۔ ناگاؤں لوک سبھا سیٹ کے لیے ہونے والے ضمنی انتخاب میں جہاں حکمراں بی جے پی کامیابی حاصل کر کے اپنا دائرہ وسیع کرنا چاہتی ہے، وہیں کانگریس اس سیٹ پر اپنی گرفت مضبوط رکھتے ہوئے اسے برقرار رکھنے کے لیے پوری طاقت لگا رہی ہے۔ انتخابی میدان میں تیسری اہم پارٹی اے آئی یو ڈی ایف بھی اپنا اثر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔اپریل میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اے آئی یو ڈی ایف کے اراکین اسمبلی کی تعداد 16 سے گھٹ کر صرف دو رہ گئی تھی۔ ضمنی انتخاب میں کل 15 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 9 آزاد امیدوار ہیں۔ اہم امیدواروں میں کانگریس کی جانب سے سابق رکن اسمبلی سیبامونی بورا، سابق آئی اے ایس افسر اور بی جے پی امیدوار دیباشیش شرما اور اے آئی یو ڈی ایف کے موجودہ رکن اسمبلی بدرالدین اجمل شامل ہیں۔ یہ ضمنی انتخاب رکن پارلیمنٹ پردیوت بوردولئی کے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ہو رہا ہے۔ وہ اب بی جے پی کے رکن اسمبلی ہیں۔مدورانتکم اور دھاراپورم اسمبلی سیٹ پر بھی ڈالے جا رہے ووٹتمل ناڈو کی مدورانتکم اور دھاراپورم اسمبلی سیٹوں پر بھی ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے، دراوڑ منیتر کژگم (ڈی ایم کے) کے صدر ایم کے اسٹالن، اپوزیشن لیڈر ادے ندھی اسٹالن اور انا ڈی ایم کے کے سربراہ ایڈپڈی کے پلانی سوامی نے ضمنی انتخاب سے قبل زبردست انتخابی مہم چلائی تھی۔ ضمنی انتخابات کے دوران عام طور پر اتنی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملتی، لیکن اس بار لیڈران کی زوردار انتخابی مہم نے ان انتخابات کی سیاسی اہمیت کو نمایاں کیا ہے، کیونکہ اس کے نتائج حکمراں اور اپوزیشن دونوں خیموں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔اب ضمنی انتخاب کے نتائج طے کریں گے کہ اسمبلی میں ٹی وی کے اپنی طاقت بڑھا پاتی ہے یا نہیں۔ وہیں، ڈی ایم کے کے لیے یہ انتخاب واپسی کے لحاظ سے اہم ہوگا، کیونکہ اپریل میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اسے شکست کی امید نہیں تھی۔ تیسرے مقام پر کھسکنے کے بعد انا ڈی ایم کے نے اپنا کھویا ہوا سیاسی اثر و رسوخ واپس حاصل کرنے کے لیے پوری طاقت جھونک دی ہے۔