ٹینیسی (5 اکتوبر 2026): امریکا میں 200 سال بعد کسی خاتون کو دی جانے والی سزائے موت پر عملدرآمد میں ناکامی کے بعد جیل کمشنر نے بڑا فیصلہ کر لیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں قتل کی مجرم خاتون کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے اس کو دو بار زہریلے انجکشن لگائے گئے، تاہم وہ دونوں بار بچ گئی۔عدالت کے حکم پر سزائے موت پر عملدرآمد میں ناکامی پر ٹینیسی کے جیل کمشنر فینک اسٹراڈا نے استعفیٰ دے دیا ہے۔اس حوالے سے گورنر بل لی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل کمشنر نے مجرم قاتلہ کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد کی کوشش ناکام ہو جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے اور وہ اس ماہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔واضح رہے کہ عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں پائیک کے وکلا نے بتایا کہ مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہو جانے کے بعد وہ بے ہوش اور وینٹی لیٹر پر تھیں۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ٹینیسی پر زور دیا کہ وہ پائیک کو پھانسی دینے کی نئی کوشش نہ کرے۔2 بار زہریلا انجکشن لگنے کے باوجود زندہ بچ جانے والے قاتلہ کہاں ہے؟