کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آج ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا پُرزور مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ مطالبہ ناقابل سمجھوتہ ہے، یعنی اس معاملہ میں کوئی بھی نرمی وہ اختیار نہیں کرنے والے۔कांग्रेस पार्टी की 3 माँगे non-negotiable हैं। पहली, ज्ञानेश कुमार का इस्तीफ़ा दूसरी, SIR को रद्द करना तीसरी, Ballot Paper पर चुनाव कराना देशभर में कांग्रेस कार्यकर्ता और INDIA गठबंधन के साथी इन तीन मुद्दों को लेकर सड़कों पर हैं। जो भी Civil Society Members व Youth…— Mallikarjun Kharge (@kharge) October 5, 2026دراصل کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف زبردست مہم چھیڑ رکھی ہے۔ اس معاملہ میں گزشتہ دنوں انڈیا بلاک کی میٹنگ بھی ہوئی تھی، جس میں سبھی پارٹیوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف آواز اٹھانے کا عزم کیا۔ کانگریس صدر کھڑگے نے اسی تعلق سے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر گیانیش کمار کے استعفیٰ سمیت 3 مطالبات سامنے رکھے ہیں۔ یہ تینوں مطالبات کانگریس نے پہلے بھی کیے تھے، جس پر وہ اب بھی قائم ہے۔اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ملکارجن کھڑگے نے لکھا ہے کہ ’’کانگریس پارٹی کے 3 مطالبات ناقابل سمجھوتہ ہیں... پہلا گیانیش کمار کا استعفیٰ، دوسرا ایس آئی آر کو رَد کرنا، تیسرا بیلٹ پیپر پر انتخاب کرانا۔‘‘ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ ’’ملک بھر میں کانگریس کارکنان اور انڈیا بلاک کے ساتھی ان 3 ایشوز کو لے کر سڑکوں پر ہیں۔ جو بھی سول سوسائٹی ممبرز و یوتھ آرگنائزیشنز ان ایشوز پر ملک میں جگہ جگہ احتجاج کر رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔‘‘’ذرا بھی شرم ہے تو اب استعفیٰ دے دیں‘، جسٹس بھوئیاں کے تبصرہ پر اپوزیشن نے گیانیش کمار کو دی نصیحتاس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس صدر نے دہلی میں خاتون صحافیوں کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی معاملہ پر اپنی شدید ناراضگی کا بھی اظہار کیا ہے۔ انھوں نے برسراقتدار بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بی جے پی نے دہلی میں خاتون صحافیوں کا استحصال کیا، وہ بے حد قابل مذمت ہے۔‘‘ تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’تاناشاہ بہت گھبرایا ہوا ہے، توجہ بھٹکانے کے مزید ایک باب کے لیے تیار رہیے۔‘‘