کویت سٹی: کویت کی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں فعال سوشل میڈیا انفلوئنسرز، بالواسطہ و بلاواسطہ اشتہار دہندگان اور ڈیجیٹل مواد تیار کرنے والوں کو باضابطہ قانونی دائرے میں لانے کے لیے نیا میڈیا قانون نافذ کردیا گیا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس نئے قانون کے تحت سوشل میڈیا پر تبصرے، مقابلے (Competitions)، تحائف کی تقسیم، اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے مواد تیار کرنے سے متعلق اصول و ضوابط کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔کویت کے شہری، غیر ملکی مقیم لوگ یا سیاح جو کویتی عوام کو ہدف بنا کر کسی قسم کی پروموشنل یا تجارتی مہم چلاتے ہیں، ان کے لیے وزارت سے باقاعدہ لائسنس حاصل پڑے گا۔ خواہ یہ سرگرمی بلا معاوضہ ہو یا معاوضے کے عوض۔رپورٹس کے مطابق انفلوئنسرز اور اشتہار دہندگان پر یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اشاعتی مواد میں واضح طور پر نشاندہی کریں کہ یہ ایک ”پریوئیڈ یا تجارتی اشتہار” ہے۔اس اقدام کا مقصد صارفین کو گمراہ کن مواد سے بچانا اور عام مواد و تجارتی مواد کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہے۔لائسنس کی درخواستوں کا فیصلہ 60 دن کے اندر کیا جائے گا اور جاری کردہ لائسنس 2 سال کے لیے کارآمد ہوگا۔ قانون کی خلاف ورزی، بلا اجازت تصاویر یا نام کا استعمال اور نجی زندگی میں مداخلت کی صورت میں لائسنس 6 ماہ تک معطل یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔متعلقہ وزیر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بچوں اور صارفین کے تحفظ، AI کی مدد سے تیار کردہ مواد، آن لائن مقابلوں اور گفٹ اسکیموں کو منظم کرنے کے لیے اخلاقی و پیشہ ورانہ اصول متعین کریں۔ڈلیوری کمپنیوں اور ان کے ڈرائیوروں کو سخت انتباہقانون میں واضح کیا گیا ہے کہ شائع ہونے سے قبل مواد پر کوئی سنسرشپ عائد نہیں کی جائے گی، تاہم اشاعت کے بعد متعلقہ مواد کو متعین کردہ اخلاقی و قانونی معائیر پر پرکھا جائے گا اور خلاف ورزی پر بعد از اشاعت جوابدہی ہوگی۔