واشنگٹن : امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ سے تمام امریکی بمبار طیاروں کو حفاظتی اقدامات کے پیش نظر امریکہ منتقل کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ ائیر پورٹ سے روانہ ہونے والے بی ون بمبار طیارے واپس امریکہ پہنچ گئے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ اور امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے برطانوی ایئربیس پر امریکی طیاروں اور پائلٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ممکنہ اور پیچیدہ ڈرون حملے کی انٹیلی جنس معلومات سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔جے ڈی وینس نے واشنگٹن سے الاسکا روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے برطانیہ میں واقع امریکی فضائی اڈے کے قریب مشتبہ ایرانی سازش کے سامنے آنے کے بعد امریکی وزیر جنگ نے احتیاطی اقدام کے طور پر بمبار طیاروں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔وینس نے کہا کہ امریکا کو کافی حد تک یقین ہے کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکا اور دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اسی لیے واشنگٹن اپنے فوجی اہلکاروں اور تنصیبات کے تحفظ کے معاملے میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل برطانیہ کے ایک فضائی اڈے کے قریب 5برطانوی شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا، برطانوی حکام نے ان افراد پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی تیاری کے شبے میں تحقیقات شروع کی ہیں۔ یہ واقعہ آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پیش آیا، جسے امریکی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے برطانیہ میں ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔یہ بی ون بمبار طیارے برطانیہ کے اس ہوائی اڈے پر موجود تھے جسے حال ہی میں ایران پر امریکی فضائی حملوں کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔اس حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی کہ یہ اقدام کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ مخصوص خطرات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ دشمن کو موقع دینے کے بجائے اپنے اثاثوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔امریکا نے برطانوی ایئر بیس سے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے