فارم 6 میں تبدیلی پر اجے ماکن کا الیکشن کمیشن سے سوال- ’سپریم کورٹ نے منظوری نہیں دی تو نئے ووٹروں پر کیوں لاگو کیا؟‘

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے الیکشن کمیشن پر نئے ووٹروں کے لیے آن لائن فارم 6 میں غیر مجاز تبدیلی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق فارم 6 کے ساتھ شامل اعلامیے کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے، جبکہ عدالت نے بعد میں واضح کیا کہ اس نے ترمیم شدہ فارم 6 کو منظور نہیں کیا۔اجے ماکن کے مطابق الیکشن کمیشن نے 26 ستمبر 2026 کو جاری پریس نوٹ نمبر 120 کے نکتہ 1(سوم) میں کہا تھا کہ ’ایس آئی آر کے لیے فارم 6 کے ساتھ منسلک اعلامیہ کو معزز سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔‘تاہم، 5 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح کیا کہ عدالت نے فارم 6 میں کسی ترمیم کی منظوری نہیں دی ہے۔ اجے ماکن نے عدالت میں چیف جسٹس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، کسی بھی ترمیم شدہ فارم 6 کو ہم نے منظور نہیں کیا۔ جب ریکارڈ پیش کیا جائے گا تو ہم دیکھنا چاہیں گے کہ یہ ترمیم کس نے کی۔‘‘ اس بنچ میں جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل تھے۔ماکن نے کہا کہ تبدیلی کے تحت جولائی 2026 تک الیکشن کمیشن کے ’ای سی آئی نیٹ‘ پورٹل پر نئے ووٹروں کے آن لائن فارم 6 میں ایک نیا اعلامیہ شامل کیا گیا تھا۔ اس میں درخواست گزار سے پوچھا گیا تھا کہ آیا اس کا نام، اس کے والدین یا دادا دادی کا نام گزشتہ ایس آئی آر کی ووٹر فہرست میں موجود تھا یا نہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 17 جون 2022 کو قانون و انصاف کی وزارت کی جانب سے جاری گزٹ نوٹیفکیشن S.O. 2802(ای) کے تحت مقررہ فارم 6 میں والدین یا دادا دادی کے نام کے گزشتہ ووٹر فہرست میں موجود ہونے سے متعلق ایسا کوئی سوال شامل نہیں ہے۔اجے ماکن نے مزید کہا کہ اس معاملے پر الیکشن کمیشن کے اندر بھی اعتراضات سامنے آئے تھے۔ ان کے مطابق دی انڈین ایکسپریس کی 23 ستمبر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ الیکشن کمشنر وویک جوشی نے 16 مئی کو فائل پر لکھا تھا کہ فارم 6 ’قانونی طور پر مقررہ‘ ہے اور رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960 میں ترمیم کیے بغیر اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔आयोग ने नए वोटर से दादा-दादी माँगे, नाम सुप्रीम कोर्ट का लिया।26 सितंबर 2026 को चुनाव आयोग ने अपने प्रेस नोट नंबर 120 के बिंदु 1(iii) में लिखा: "The declaration attached to Form 6 for SIR has been upheld by the Hon’ble Supreme Court." यानी आयोग का दावा था कि Form 6 के साथ जोड़ी… pic.twitter.com/WzFBgrD9EI— Ajay Maken (@ajaymaken) October 6, 2026الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو نے 19 مئی کو اس سے اتفاق کیا تھا اور 13 اگست کو پورٹل پر فارم 6 میں کی گئی تبدیلیوں کو ’غیر مجاز/غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اب تک ہٹایا نہیں گیا۔ ماکن نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن عوام کو بتائے کہ آن لائن فارم 6 میں والدین اور دادا دادی سے متعلق سوال کس کے حکم پر اور کب شامل کیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو کے اعتراضات پر کمیشن نے کیا تحریری جواب دیا۔