نئی دہلی: تمل ناڈو کے کرور میں ستمبر 2025 میں ٹی وی کے سربراہ وجے کی ریلی کے دوران ہوئی بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو سرکاری ملازمت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے پر عائد روک ہٹنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ کے اس حکم پر عبوری روک لگا دی، جس کے تحت حکومت کے فیصلے کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے تمل ناڈو حکومت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ ریاستی حکومت نے مدورائی بنچ کے 27 جولائی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا کہ ایک المناک سانحے کے بعد ریاست نے متاثرہ خاندانوں کو ملازمت دینے کی پیشکش کی تھی تو اسے چیلنج کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ ریاست کی جانب سے سانحے کے متاثرین کے اہل خانہ کو روزگار فراہم کرنے میں آخر کیا دقت ہے۔ تمل ناڈو حکومت کی جانب سے سینئر وکلا ابھیشیک منو سنگھوی اور مکل روہتگی نے عدالت میں پیروی کی۔تمل ناڈو اسمبلی میں ’نیٹ‘ ختم کرنے کی قرارداد منظور، مرکز سے میڈیکل داخلہ نظام بدلنے کا مطالبہاس سے قبل مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ نے کرور بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو ہمدردانہ بنیاد پر سرکاری ملازمت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو منسوخ کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ہمدردانہ تقرری کا مقصد کسی سرکاری ملازم کی دورانِ ملازمت موت کے بعد اس کے خاندان کو فوری مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ اسے کسی عوامی سانحے کے بعد عام بحالی کے اقدام کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔کرور میں یہ حادثہ ستمبر 2025 میں ٹی وی کے سربراہ اور اداکار سے سیاست دان بنے وجے کی ریلی کے دوران پیش آیا تھا۔ بھگدڑ میں 41 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 8 بچے بھی شامل تھے، جبکہ 46 افراد زخمی ہوئے تھے۔تمل ناڈو میں دھان اور گنے کے کاشت کاروں کو راحت، ریاستی حکومت نے کیا اضافی رقم کا اعلانحکام کے مطابق وجے کو دوپہر تقریباً 12 بجے کرور پہنچنا تھا، لیکن وہ شام 6 بجے کے بعد وہاں پہنچے۔ اس دوران ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے تقریباً 30 ہزار افراد جمع ہو گئے تھے۔ شدید بھیڑ کے باعث بھگدڑ مچ گئی، جس میں 41 افراد کی جان چلی گئی۔سپریم کورٹ کے تازہ عبوری حکم کے بعد تمل ناڈو حکومت کے لیے سانحے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو سرکاری ملازمت دینے کے عمل کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ تاہم، معاملے پر عدالت کا حتمی فیصلہ بعد میں آئے گا۔