بامبے ہائی کورٹ کی ایف ڈی اے کو پھٹکار، متاثرہ دکاندار کو 5 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

Wait 5 sec.

بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کو حکم دیا ہے کہ وہ پونے کی ایک ڈیری اور مٹھائی فروخت کرنے والے کو 5 لاکھ روپے ہرجانے کے طور پر ادا کرے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مٹھائی کی دکان کا لائسنس 98 فیصد ضوابط کی پابندی کیے جانے کے باوجود معطل رکھنے پر بھی ایف ڈی اے کو سخت پھٹکار لگائی۔ قائم مقام چیف جسٹس رویندر گُھگے اور جسٹس گوتم اکھنڈ نے 12 جون کے معطلی حکم کو فوری طور پر منسوخ کر دیا اور وڈگاؤں شیری واقع گرونانک ڈیری اینڈ سویٹس کو اپنا ریٹیل کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی آزادی دے دی۔Bombay High Court Raps FDA For Continuing Sweet Shop's Licence Suspension Despite 98% Hygiene Compliance, Orders ₹5 Lakh Compensation | @NarsiBenwal https://t.co/jIXhQmdhUd— Live Law (@LiveLawIndia) August 18, 2026واضح رہے کہ پونے کی گرونانک ڈیری اینڈ سویٹس نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر ایف ڈی اے کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا۔ دکان کے مالک نے بتایا کہ ایف ڈی اے کی کارروائی کی وجہ سے اسے 8.74 لاکھ روپے کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس رویندر گُھگے اور جسٹس گوتم اکھنڈ پر مشتمل بنچ نے ایف ڈی اے کی پالیسی کو عجیب اور ناقص قرار دیا۔ بنچ نے دکاندار کو کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ایف ڈی اے کو ایک ماہ کے اندر دکان کے مالک کو 5 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے کہا کہ آپ کی نیت قابل تعریف ہے لیکن جب آپ کو 98 فیصد ضوابط کی پابندی کا علم ہو گیا تھا تو لائسنس کی معطلی فورا منسوخ کر دینی چاہیے تھی۔ دکاندار کا لائسنس 11 جون کو پیش آئے فوڈ پوائزننگ کے واقعے کے بعد معطل کیا گیا تھا۔ عرضی کے مطابق 12 جون کو ایف ڈی او نے اس کا فوڈ لائسنس معطل کر دیا اور اصلاح کا نوٹس دیے یا سماعت کا موقع دیے بغیر کاروبار بند کرنے کا حکم دے دیا۔ 13 جولائی کو فوڈ سیفٹی افسر کے دوبارہ معائنے میں دکان نے 98 فیصد ضوابط کی پابندی حاصل کر لی لیکن اس کے باوجود معطلی کا حکم برقرار رہا۔15 جولائی کو ایف ڈی اے کمشنر کے سامنے اپیل دائر کی گئی لیکن اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، جس کے بعد دکاندار نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ گرو نانک ڈیری اینڈ سویٹس کی جانب سے وکیل ابھیجیت دیسائی نے پونے کے پنڈ پنجاب معاملے کا حوالہ دیا جس میں ہائی کورٹ نے 16 جولائی کو کہا تھا کہ نئے معائنے میں 100 فیصد ضوابط کی پابندی کی تصدیق ہونے کے بعد معطلی کا حکم ازخود غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔مہاراشٹر میں اسکولوں کے قریب ہائی انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی، ایف ڈی اے کی ریاست گیر کارروائی شروعججوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ایف ڈی اے کی نیت قابل تعریف ہے اور کم از کم کوئی محکمہ تو کارروائی کے لیے آگے آیا ہے لیکن آپ حد سے تجاوز کر رہے ہیں۔ 98 فیصد ضوابط کی پابندی دیکھتے ہی آپ کو لائسنس کی معطلی فوراً منسوخ کر دینی چاہیے تھی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ معطلی کے خلاف عرضی گزار کی اپیل کمشنر کے سامنے زیر التوا ہے۔ 11 اگست کو اس پر سماعت مکمل ہو چکی ہے اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ تاہم ججوں نے کہا کہ یہ واضح اور سراسر من مانی اور عجیب پالیسی ہے۔قائم مقام چیف جسٹس گُھگے نے کہا کہ ’’ایک بار 98 فیصد ضوابط کی پابندی ثابت ہو جانے کے بعد آپ کہتے ہیں کہ اب اپیل دائر کرو، یہ کیا طریقہ ہے؟ شہریوں کو پریشان کرنا۔‘‘ عدالت کی جانب سے دکان کی روزانہ آمدنی کے بارے میں پوچھے جانے پر دیسائی نے بتایا کہ یہ تقریباً 25 ہزار روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضوابط کی پابندی ثابت ہونے کے بعد 34 دن گزر چکے ہیں اور دکاندار کو تقریباً 8.5 لاکھ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شراف کی مشکلات میں اضافہ، ’وِمل الائچی‘ اشتہار پر ایف ڈی اے کا شوکاز نوٹسعدالت نے کہا کہ ریاست کو اپیل زیر التوا ہونے کا کمزور بہانہ نہیں بنانا چاہیے تھا۔ عرضی گزار کی جانب سے 98 فیصد ضوابط کی پابندی حاصل کیے جانے کے بعد معطلی کا حکم فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے تھا۔ ایف ڈی اے کی تعمیلی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ایف ڈی اے کو عرضی گزار کے نقصان کی تلافی کے لیے 5 لاکھ روپے ادا کرنے کی ہدایت دینا مناسب سمجھا۔ ایف ڈی اے 30 دن کے اندر یہ رقم ہائی کورٹ میں جمع کرائے گا اور عرضی گزار اسے نکالنے کے لیے آزاد ہوگا۔