واشنگٹن(18 اگست 2026): امریکی اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں خام تیل کے ذخائر گزشتہ ہفتے 5.3 ملین بیرل کی کمی کے بعد 293.4 ملین بیرل پر آ گئے ہیں، جو کہ دسمبر 1982 کے بعد کی ان کی کم ترین سطح ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تازہ ترین کمی محکمہ توانائی کی جانب سے اس ہنگامی پروگرام کے تحت تیل کے اجراء کا تسلسل ہے جس کا اعلان مارچ میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے ترسیلات میں تعطل کے جواب میں کیا گیا تھا۔ جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اراکین کے ساتھ مل کر عالمی مارکیٹ میں تیل لانے کے لیے امریکی ریزرو سے 172 ملین بیرل جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔مارچ میں امریکی اسٹریٹجک ذخائر تقریباً 415.4 ملین بیرل پر تھے، یعنی اس کے بعد سے ذخیرے میں تقریباً 122 ملین بیرل کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ محکمہ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق، اگست میں اب تک 11.4 ملین بیرل، جولائی میں 17.4 ملین بیرل، جون میں 33 ملین اور مئی میں 39.4 ملین بیرل تیل ریزرو سے نکالا جا چکا ہے۔توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تیزی سے تیل نکالنے کے نتیجے میں ٹیکساس اور لوئیزیانا میں واقع ان نمکین کنویں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جہاں یہ تیل محفوظ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جبکہ ان کنویں کو پہنچنے والا نقصان مستقبل کے توانائی کے بحرانوں سے نمٹنے کی امریکی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔اس سے قبل امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹیبلیٹی آفس کی ایک رپورٹ میں بھی یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بار بار تیل نکالنے اور دوبارہ بھرنے کے عمل سے کنویں کی ساخت متاثر ہوتی ہے اور طویل مدت میں ان کے قائم رہنے کی صلاحیت کمزور پڑتی ہے۔دوسری جانب امریکی محکمہ توانائی نے ان خدشات کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ کنویں ہمیشہ بھری رہتی ہیں اور صرف ان کے اندر تیل اور پانی کا تناسب بدلتا ہے، جبکہ انتظامیہ اس ذخیرے کو قومی سلامتی کا ایک انتہائی اہم اثاثہ سمجھتی ہے۔