نامور بھارتی دفاعی تجزیہ کار اور سابق فوجی پراوین ساہنی نے مئی 2025 میں ہونے والے نام نہاد "آپریشن سندور” کے حوالے سے بنائی گئی بھارتی دستاویزی فلم کی حقیقت آشکار کرتے ہوئے اسے حقیقت سے کوسوں دور اور یکطرفہ قرار دیا ہے۔سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں پراوین ساہنی نے لکھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگوں پر بننے والی فلمیں نہیں دیکھتے، البتہ اس حوالے سے پوسٹس، جائزے اور ویڈیو کلپس کا مطالعہ ضرور کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنگوں کو سمجھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ایسی تمام فلمیں حقیقت کے برعکس، انتہائی یکطرفہ اور بڑی خامیوں سے بھرپور ہوتی ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ایسی فلمیں بنانے کا مقصد صرف یہ دکھانا ہوتا ہے کہ بھارتی فوج پاکستانی فوج سے برتر ہے، ہائپر نیشنل ازم کو ہوا دینا ہے، اور بالواسطہ طور پر بھارتی عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ بھارتی فوج احتساب سے بالاتر ہے اور اس پر سوال اٹھانا کسی مقدس چیز کی توہین کے مترادف ہے۔I don’t watch movies on India’s wars with Pakistan. However, I do read a few posts, reviews & video clips on X. For one who understands these wars, all such movies are unreal, hugely one sided with major shortcomings.I do understand why they are made: to show Indian military is…— Pravin Sawhney (@PravinSawhney) August 18, 2026بھارتی تجزیہ کار نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ 12 برسوں سے بیشتر بھارتی ایک خیالی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں، اور جو لوگ اس فریب کا حصہ نہیں بننا چاہتے، انہیں "دماغی نکسل” کا لقب دیا جاتا ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں کیونکہ وقت بہت تیزی سے بدل رہا ہے اور حالات 2029 سے پہلے ایک بڑی تبدیلی کی طرف گامزن ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھی نام نہاد آپریشن سندور پر بنائی جانے والی بھارتی ڈاکومینٹری کو حقائق مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت اس معرکے میں اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔آپریشن سندور پر بھارتی ڈاکیومنٹری کامیڈی اور ٹریجڈی ہے، آئی ایس پی آر