ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے کے نقشے پر اتفاق کر لیا

Wait 5 sec.

تہران (16 اگست 2026): ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے کے نقشے پر اتفاق کر لیا، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے۔دفاع پریس کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس میں موجودہ عدمِ تحفظ کی براہِ راست وجہ امریکا اور اسرائیل کی جارحانہ کارروائیاں ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متصل ساحلی ممالک کی حیثیت سے، اس معاملے پر بھرپور اور تعمیری مذاکرات کر چکے ہیں، جن کے نتیجے میں بحری آمدورفت کے ایک متفقہ راستے کا نقشہ طے پا گیا ہے۔حزب اللہ جنگجوؤں سے میرا رابطہ ہے، باقر قالیباف کا اعترافتاہم، انھوں نے زور دیا کہ اس آبی گزرگاہ میں مکمل امن و سلامتی کی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکی مداخلت اور بحری پابندیاں ختم نہیں ہوتیں۔اسماعیل بقائی نے ہرمز میں امریکا اور اسرائیل کو عدم استحکام کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا عمان سے مذاکرات اور آبنائے ہرمز کھولنا 2 الگ معاملات ہیں، عمان کے ساتھ تکینکی سطح پر مذاکرات ہو رہے ہیں جس کا تعلق آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت سے ہے، تاہم آبنائے ہرمز کھلنے کا انحصار امریکا پر ہے، اسے مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔