چھتیس گڑھ کے سورج پور میں 10 کروڑ روپے کی لاگت سے بنا پل بارش میں بہہ گیا، تعمیر کے معیار پر اٹھے سنگین سوالات

Wait 5 sec.

چھتیس گڑھ کے سورج پور ضلع کے پرتاپ پور بلاک کے دھوندھا گاؤں میں ندی پر بنا تقریباً 10 کروڑ روپے کی لاگت والا پل شدید بارش کے بعد بہہ گیا۔ جمعرات کو ہونے والی تیز بارش کے بعد رات بھر ندی کی سطح آب اور بہاؤ میں اضافہ ہوتا رہا۔ جمعہ کی صبح جب گاؤں کے لوگ ندی کی طرف گئے تو دیکھا کہ پل کا ایک بڑا حصہ پانی میں بہہ چکا تھا۔ کہیں پلر اکھڑے پڑے تھے تو کہیں سلیب ندی میں بہہ گئی تھی۔ پل کا ایک طویل حصہ تیز بہاؤ میں بہہ جانے سے درجنوں دیہات کے لوگوں کے سامنے آمد و رفت کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔A ₹10-crore bridge in Dhondha village of Chhattisgarh’s Surajpur district was swept away after heavy overnight rainfall. Several pillars and sections of the bridge were washed away by the swollen river. Villagers alleged that poor-quality materials and construction… pic.twitter.com/mBnQniKVqI— IndiaToday (@IndiaToday) August 16, 2026میڈیا رپورٹس کے مطابق گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ پل کی تعمیر کے وقت سے ہی اس کے معیار کو لے کر سوالات اٹھتے رہے تھے۔ پل کے مختلف حصوں میں دراڑیں بھی دکھائی دینے لگی تھیں۔ گاؤں والوں نے الزام عائد کیا کہ تعمیر میں ناقص مواد کا استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے پل پہلے ہی کمزور تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی آمد و رفت شروع ہونے کے بعد دراڑیں نظر آنے لگی تھیں اور وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال مزید خراب ہوتی گئی۔ حالانکہ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ پل بہہ جانے سے ندی کے آس پاس رہنے والے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ پل آس پاس کے گاؤں کے لوگوں کے لیے آمد و رفت کا ایک اہم راستہ تھا۔ اب اس کے تباہ ہونے کے بعد دیہی باشندوں کو آنے جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پل بہہ جانے کے بعد پرتاپ پور علاقے میں سڑکوں، پلوں اور دیگر سرکاری تعمیراتی کاموں کے معیار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ تعمیراتی کاموں میں زمینی سطح پر معیار کو یقینی بنانے کے بجائے کاغذی کارروائی پر زیادہ توجہ دی گئی۔ گاؤں والوں نے تعمیراتی ایجنسی اور ٹھیکیدار کے ساتھ متعلقہ محکمہ کے افسران کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 کروڑ روپے کی لاگت سے بنے پل کا اس طرح بہہ جانا ایک سنگین معاملہ ہے۔ وہ تعمیر میں مبینہ بے ضابطگیوں، استعمال کیے گئے مواد اور معیار کی جانچ کے عمل کی تحقیقات چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔