بنگلہ دیش نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ 23 سال بعد آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے پہنچی بنگلہ دیشی ٹیم نے ڈارون میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں چوتھے ہی دن 9 وکٹوں سے کامیابی حاصل کر لی۔ آسٹریلیا میں بنگلہ دیش کی یہ پہلی ٹیسٹ فتح ہے اور اسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ ڈارون ٹیسٹ جیتنے کے لیے آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کو محض 57 رنز کا ہدف دیا تھا۔ بنگلہ دیش نے 14.2 اوورس میں ایک وکٹ کے نقصان پر 57 رنز بنا کر 9 وکٹوں سے یادگار فتح حاصل کی۔ شادمان اسلام 25 اور مومن الحق 30 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ پہلی اننگ میں سنچری بنانے والے تنزید حسن صفر پر آؤٹ ہوئے۔تاریخی جیت کی طرف گامزن بنگلہ دیش، 228 رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد دوسری اننگ میں آسٹریلیا کی 4 وکٹیں گرا دیںاس سے قبل آسٹریلیا اپنی دوسری اننگ میں 284 رنز پر سمٹ گئی تھی۔ آسٹریلیا کی جانب سے دوسری اننگ میں کیمرون گرین کے علاوہ کوئی بھی آسٹریلوی بلے باز بنگلہ دیشی گیند بازوں کا ڈٹ کر مقابلہ نہیں کر سکا۔ پانچویں نمبر پر بلے بازی کے لیے آنے والے گرین 201 گیندوں پر 4 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 104 رنز بنا کر نویں وکٹ کے طور پر آؤٹ ہوئے۔ ان کے علاوہ اسٹیو اسمتھ نے 44 اور ایلکس کیری نے 30 رنز بنائے۔ آسٹریلیا دوسری اننگ میں صرف 56 رنز کی برتری ہی حاصل کر سکا تھا۔ بنگلہ دیش کے لیے مہدی حسن معراج نے 5 اور حسن محمود نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ تسکین احمد اور تیج الاسلام کو 1-1 وکٹ ملی۔قابل ذکر ہے کہ آسٹریلیا پہلی اننگ میں 198 رنز پر سمٹ گئی تھی۔ بنگلہ دیش نے پہلی اننگ میں 426 رنز بنا کر آسٹریلیا پر 228 رنز کی برتری حاصل کی تھی۔ میچ کسی نہ کسی حد تک یہیں بنگلہ دیش کی گرفت میں آ گیا تھا۔ بنگلہ دیش کے لیے پہلی اننگ میں تنزید حسن نے سنچری بنائی تھی۔ آسٹریلوی سرزمین پر کسی بنگلہ دیشی بلے باز کی ٹیسٹ میں یہ پہلی سنچری تھی۔ حسن محمود نے 6 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ میچ میں 9 وکٹیں لینے والے حسن محمود کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ اس جیت کے ساتھ ہی بنگلہ دیش 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 1-0 سے آگے ہو گیا ہے۔