تہران (16 اگست 2026): ایرانی مجلس شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ اپنا مسلسل رابطہ قائم رہنے کا اعتراف کیا ہے۔قاليباف نے ہفتے کے روز ایرانی دانش وروں کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران کہا کہ وہ 1985 سے لبنان سے متعلق امور سے منسلک ہیں۔ انھوں نے حزب اللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’لبنان کے ہر شہید کے ساتھ میری قریبی دوستی اور تعلق تھا اور میں آج بھی لبنان میں فرنٹ لائنز پر موجود جنگجوؤں سے رابطے میں ہوں۔‘‘قالیباف نے واضح کیا کہ امریکا ایران سے اپنے میزائل اور ایٹمی پروگرام نیز ’’مزاحمتی محاذ‘‘ اور آبنائے ہرمز سے دست بردار ہونے کا مطالبہ کر رہا تھا، لیکن ایران کی جانب سے مزاحمت اور لبنان کو امریکا کے ساتھ ایم او یو کی پہلی شق میں شامل کیا گیا تھا۔حوثی باغیوں نے اپنے ہی ملک کی بندرگاہ پر 25 میزائل داغ دیےقاليباف کا یہ بیان بیروت اور تہران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ کشیدگی چند ماہ پہلے لبنان میں ایرانی کردار کے معاملے پر پیدا ہوئی تھی۔ لبنانی حکومت نے اسلحہ صرف ریاست کے پاس رکھنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ اس نے حزب اللہ کو بھی ریاستی فیصلوں کا پابند بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔لبنانی صدر جوزف عون نے گزشتہ بیانات میں لبنانی امور میں ایرانی مداخلت کو مسترد کرنے پر زور دیا تھا، اور تہران پر امریکا کے ساتھ اپنے مذاکرات میں لبنان کو کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا، جون میں سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا ’’یہ آپ کا ملک نہیں ہے، یہ ہمارا ملک ہے اور ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘