واشنگٹن (16 اگست 2026): وائٹ ہاؤس نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل، بھارت اور جاپان سمیت 40 ممالک چین کی ٹرمپ ٹیرف سے بچنے میں مدد کر رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا کہ چالیس سے زیادہ ممالک نے چین کو امریکی ٹیرف سے بچنے میں مدد دی ہے۔ ان ممالک نے چین کی برآمدات کو ایسے ملکوں کے راستے امریکا پہنچایا جہاں امریکی درآمدی ڈیوٹی نسبتاً کم ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق ان ممالک میں کینیڈا، یورپی یونین، بھارت، اسرائیل، جاپان، میکسیکو، جنوبی کوریا اور تائیوان بھی شامل ہیں، ان میں سے کئی خود امریکا کے قریبی حلیف ہیں، امریکی حکومت نے الزام لگایا کہ ان ممالک کے ذریعے چین نے 300 ارب ڈالر کے ٹیرف سے بچنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ ٹیرف ان کمپنیوں پر عائد کیے جاتے ہیں جو بیرونِ ملک سے سامان درآمد کرتی ہیں۔وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے کہا کہ اس عمل کی وجہ سے ’’امریکی ملازمتوں اور اربوں ڈالر کی آمدنی کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘ امریکی حکومت کی جانب سے ٹیرف سے بچنے کے لیے چین پر بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکا دہی کا الزام لگایا گیا، اور کہا کہ چین ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی طور پر دھوکا دہی کر رہا ہے۔یہ تصویر اب خود ٹرمپ اور ریپبلکنز کے لیے دردِ سر بن گئی ہےتاہم چینی حکام نے امریکی الزام مسترد کر دیا ہے، واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ ’’تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔‘‘ انھوں نے امریکی ٹیرف اقدامات اور چینی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ریاستی طاقت کے استعمال کی مخالفت کی۔صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وائٹ ہاؤس کی رپورٹ شیئر کی، جن ملکوں سے چینی اشیا کی امریکا غیر قانونی ترسیل کی جاتی ہے ان میں پاکستان شامل نہیں ہے، بنگلادیشی اخبار کے مطابق بنگلادیش بھی ان چالیس ممالک میں شامل ہے۔واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ترسیل کردہ اشیا پر یک طرفہ اقدامات سے تھرڈ پارٹی مفادات کو ہدف نہیں بنانا چاہیے، چینی اشیا کو دبانے کے لیے قومی سلامتی کا جواز اور یک طرفہ ٹیرف کو مسترد کرتے ہیں، ضرورت پڑی تو چین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔