جکارتہ (16 اگست 2026): انڈونیشیا میں ہولناک زلزلے نے تباہی پھیلا دی ہے، اموات کی تعداد 51 ہو گئی جب کہ متعدد افراد زخمی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ 5,000 سے زائد افراد گھروں سےعارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئے، زلزلے سے 1300 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، 20 پٹرول پمپ بھی تباہ ہوئے، اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکیں بند ہو گئیں، امدادی کاروائیوں میں 3 ہزارسے زائد فوجی اہلکار بھی شریک ہیں۔واضح رہے کہ انڈونیشیا کے ساحل کے قریب مشرقی نوسا تنگارا صوبے میں ہفتے کی صبح 7.7 شدت کا ایک طاقت ور زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں 51 افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انڈونیشیا کی نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اکیاون ہو گئی ہے، جب کہ زخمیوں کی تعداد 64 ہے۔سب سے کم عمر سیاہ فام کیمبرج پروفیسر جیسن آرڈے کی اچانک موت واقعروئٹرز کے مطابق یہ اعداد و شمار نائب وزیرِ صحت بینجمن پالوس آکٹاویانوس نے ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک اجلاس میں بتائیں۔ اس زلزلے کے بعد تقریباً 341 آفٹر شاکس آئے ہیں، اور آج 16 اگست کی صبح 5.2 شدت کا ایک آفٹر شاک بھی ریکارڈ کیا گیا، تاہم اس کے بارے میں سونامی کا خطرہ نہیں بتایا گیا۔یہ 2022 میں مغربی جاوا میں آنے والے زلزلے کے بعد انڈونیشیا کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز زلزلہ ہے جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انڈونیشیا کی جیو فزکس ایجنسی کے مطابق اس علاقے میں 1992 میں بھی 7.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔سِکا شہر کے 3,300 سے زائد رہائشی زلزلہ آنے کے بعد گھروں کے باہر ترپال سے بنائے گئے عارضی خیموں میں منتقل ہو گئے تھے اور اپنے گھروں میں جانے سے گھبرا رہے تھے، انھیں سمندر کا بھی خطرہ تھا جہاں پانی کی سطح بلند ہو رہی تھی، بعد ازاں سبھی افراد اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔واضح رہے کہ تقریباً 29 کروڑ آبادی والا انڈونیشیا ایک وسیع جزیرہ نما ملک ہے اور یہ ’’پیسیفک رِنگ آف فائر‘‘ پر واقع ہے۔ یہ ایک انتہائی فعال زلزلہ خیز خطہ ہے جہاں ٹیکٹونک پلیٹس ایک دوسرے سے ملتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہاں اکثر زلزلے اور آتش فشانی کے واقعات پیش آتے ہیں۔