صدر ٹرمپ نے طیارہ بردار جنگی جہاز ابراہم لنکن کی نو ماہ کی تعیناتی کو طویل ماننے سے انکار کر دیا۔ابراہم لنکن پر تعینات پانچ ہزار فوجیوں کے اہلخانہ کے تحفظات پر صدر ٹرمپ نے کہا یہ طویل عرصہ نہیں ہے تاہم اب ابراہم لنکن کی جگہ دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجا جا رہا ہے۔امریکی حکام کے مطابق ابراہم لنکن کی جگہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو بھیجا جا رہا ہے۔خودکشیایران جنگ طویل ہونے کے سبب امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے ابراہم لنکن پر پر تعینات متعدد فوجی اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔7 ماہ سے سمندر میں موجود امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن پر تعینات فوجی عملے کی ذہنی صحت بگڑنے لگی ہے اور کئی اہلکاروں نے سمندر میں کود کر خودکشیوں کی کوشش کی ہے۔بحری بیڑے پر تعینات ایک فوجی اہلکار کی اہلیہ نے اخبار کو بتایا کہ طویل اور مسلسل ڈیوٹی کے سبب اس کے شوہر نے جہاز سے کودنے کی کوشش کی جب کہ بیڑے کے عملے نے کئی دیگر اہلکاروں کو ایسا کرنے سے روکا۔رپورٹر کا کہنا ہے کہ اہلکار 250 دن سے زائد عرصے سے جہاز پر تعینات ہیں۔ 9 ماہ کی تعیناتی سے جہاز پر خوراک، گرم پانی، نکاسی اور صفائی کے مسائل کا سامنا ہے۔دوسری جانب امریکی بحریہ نے اہلکاروں کی خودکشی کی کوششوں یا ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے کی تردید کی ہے۔ امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر ایسے واقعات میں اضافہ نہیں دیکھا گیا ہے۔امریکی نیوزی کا موقف ہے کہ بیڑے پر مذہبی اور طبی ماہرین کی ٹیمیں بھی موجود ہیں، جو اہلکاروں کو کونسلنگ فراہم کر رہی ہیں۔