کوویڈ 19 : اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اعتراف جرم کرلیا

Wait 5 sec.

امریکا کے سابق سینئر طبی مشیر ڈیوڈ مورینز نے کوویڈ 19 سے متعلق سرکاری ریکارڈ عوام سے چھپانے کی سازش کے الزام میں اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔78سالہ مورینز نے منگل 18 اگست 2026 کو ریاست میری لینڈ کے شہر گرین بیلٹ کی وفاقی عدالت میں اپنے خلاف عائد سازش کے الزام کا اعتراف کیا۔استغاثہ کے مطابق وہ کوویڈ 19 وبا کے دوران نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیئس ڈیزیزز سے وابستہ رہے، جہاں وہ تحقیقی گرانٹس اور فنڈنگ سے متعلق امور کی نگرانی کرتے تھے۔مورینز پر الزام ہے کہ انہوں نے دو دیگر افراد کے ساتھ مل کر 2020 میں کوویڈ 19 سے متعلق تحقیقی گرانٹس کے بارے میں موصول ہونے والی عوامی ریکارڈ کی درخواستوں کو چھپانے کا منصوبہ بنایا۔استغاثہ کے مطابق سازش میں شامل ایک شخص نیویارک میں قائم ایک غیر منافع بخش ادارے کا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر تھا، جسے 2014 میں ایک تحقیقی گرانٹ دی گئی تھی۔تاہم کوویڈ 19 کے ابتدائی دنوں میں اس تحقیق سے متعلق تنازع سامنے آنے کے بعد نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ نے اپریل 2020 میں اس گرانٹ کو ختم کردیا تھا۔NIAID، NIH کا ایک ذیلی ادارہ ہے اور سابق معروف متعدی امراض کے ماہر انتھونی فاؤچی تقریباً 38 برس تک اس ادارے کی قیادت کرتے رہے۔مورینز کے وکیل ٹموتھی بیلیویٹز نے عدالت میں بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ جرم قبول کرکے ڈاکٹر مورینز نے اپنے کیے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور وہ آئندہ بھی اس کی ذمہ داری قبول کرتے رہیں گے۔مورینز پر اپریل میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق ان کے خلاف مقدمہ کووڈ-19 کی تحقیق اور تحقیقی گرانٹس سے متعلق سرکاری ریکارڈ تک عوام کی رسائی روکنے کی مبینہ کوششوں سے جڑا ہوا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انتھونی فاؤچی بھی گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔مورینز کو اس جرم میں زیادہ سے زیادہ 5سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، عدالت نے سزا سنانے کے لیے 12نومبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔