انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ: ہائی کورٹ نے تینوں مجرموں کی ضمانت کی درخواستیں کیں خارج

Wait 5 sec.

دہرادون: اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی نینی تال بنچ نے انکیتا بھنڈاری قتل معاملے میں عمر قید کی سزا پانے والے تینوں مجرموں کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد پلکت آریہ، سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو فی الحال جیل میں ہی رہنا ہوگا۔ تینوں نے نچلی عدالت سے عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد ہائی کورٹ سے ضمانت کی درخواست کی تھی۔اس معاملے کی سماعت ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے مسلسل دو دن تک کی۔ جسٹس رویندر میٹھانی اور جسٹس سدھارتھ شاہ کی بنچ کے سامنے دفاع اور استغاثہ کے وکلا نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ دفاع کی جانب سے تینوں مجرموں کو ضمانت دینے کے لیے مختلف دلائل دیے گئے، جبکہ استغاثہ نے ضمانت کی درخواستوں کی سخت مخالفت کی اور مقدمے سے متعلق اہم شواہد اور ثبوت عدالت کے سامنے رکھے۔استغاثہ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں پلکت آریہ، سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو انکیتا بھنڈاری کے قتل اور اس معاملے سے متعلق شواہد مٹانے کا قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دونوں جانب کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے تینوں کی ضمانت درخواستیں خارج کر دیں۔انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ ستمبر 2022 کا ہے۔ انکیتا رشی کیش کے قریب پہاڑی علاقے میں واقع وننترا ریزورٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔ 18 ستمبر 2022 کو وہ مشتبہ حالات میں لاپتہ ہو گئی تھیں۔ ان کے لاپتہ ہونے کے بعد اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے ان کی تلاش شروع کی۔پولیس کی تفتیش آگے بڑھنے کے ساتھ یہ معاملہ محض گمشدگی کا نہیں بلکہ قتل کا نکلا۔ 24 ستمبر 2022 کو انکیتا کی لاش چیلا بیراج سے برآمد ہوئی۔ لاش ملنے کے بعد پولیس نے ریزورٹ کے اس وقت کے مالک پلکت آریہ کو گرفتار کیا۔ اس کے ساتھ سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو بھی گرفتار کیا گیا۔واقعے کے بعد پورے اتراکھنڈ میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ مختلف مقامات پر احتجاج ہوئے اور لوگوں نے انکیتا کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ملزمان کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معاملہ بعد میں کوٹ دوار کی عدالت میں چلا۔ کوٹ دوار کی اس وقت کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رینا نیگی کی عدالت نے پلکت آریہ، سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو انکیتا کے قتل اور شواہد مٹانے کا قصوروار قرار دیتے ہوئے تینوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف تینوں نے ہائی کورٹ کا رخ کیا اور سزا کے دوران ضمانت کی درخواست دائر کی۔ تاہم دو روزہ سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے تینوں کی ضمانت درخواستیں خارج کر دیں۔