نئی دہلی: دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے شمال مشرقی زون کے چیئرمین کے دفتر میں بدھ کو اس وقت زبردست ہنگامہ ہو گیا، جب کبیر نگر وارڈ سے کانگریس کے کونسلر حاجی ظریف پر حملہ کیا گیا۔ اس دوران گالی گلوچ اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ حالات کشیدہ ہونے پر زون چیئرمین پنکج لوتھرا کو اپنا دفتر چھوڑنا پڑا۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حاجی ظریف پر حملہ مقامی لوگوں اور کچھ وکلا نے کیا، تاہم وہ بال بال بچ گئے۔ کانگریس کونسلر نے ایک یوٹیوب چینل سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ ان کے خلاف رچی گئی سازش کا نتیجہ ہے۔حاجی ظریف کے مطابق ان کے وارڈ میں دہلی پولیوشن کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) کی جانب سے آلودگی کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام ایک کیمیکل فیکٹری کو سیل کرنے کے لیے گئے تھے۔ کونسلر نے کہا کہ انہوں نے بدھ کی صبح پریس کانفرنس کرکے واضح کیا تھا کہ فیکٹری کے خلاف کارروائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیکٹری کی زمین کے مالک اورنگزیب چوہان، بنٹی، ایلو اور ہمایوں کو مقامی رکن اسمبلی گوپال رائے کی حمایت حاصل ہے۔ حاجی ظریف کے مطابق تقریباً 100 افراد نے ایک روز قبل ان کے گھر کے باہر نعرے بازی کی تھی۔ خطرہ محسوس ہونے پر انہوں نے ویلکم تھانے کے ایس ایچ او کو شکایت دی اور ایک پین ڈرائیو بھی فراہم کی، لیکن ان کا الزام ہے کہ اس کے باوجود انہیں سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔کونسلر نے بتایا کہ وہ روزمرہ کی طرح ایم سی ڈی کے شمال مشرقی زون کے دفتر پہنچے تھے۔ کار سے اترتے ہی تقریباً 15 سے 20 افراد نے ان کے ساتھ گالی گلوچ شروع کردی۔ انہوں نے ہمایوں کبیر، بنٹی اور اورنگزیب کو ان افراد میں شامل بتایا اور کہا کہ وہ انہیں چہرے سے پہچانتے ہیں۔حاجی ظریف کے مطابق صورتحال کو دیکھتے ہوئے وہ لوگ بھاگ کر زون چیئرمین پنکج لوتھرا کے دفتر میں داخل ہوئے، لیکن حملہ آور بھی دفتر میں داخل ہوگئے اور انہیں کرسی سے مارنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ موقع پر ایس ایچ او اور پولیس اہلکار موجود تھے، جس کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہونے سے بچ گئی۔آخر میں حاجی ظریف نے الزام لگایا کہ اس پورے معاملے کی سازش رچنے والا کوئی اور نہیں بلکہ رکن اسمبلی گوپال رائے کا بھائی یوگیندر رائے ہے۔ تاہم، ان الزامات پر متعلقہ افراد یا پولیس کا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔