ہندوستان ہر سال 15 اگست کو آزادی کی جدوجہد اور برطانوی اقتدار کے خاتمے کے لیے دی گئی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے یومِ آزادی مناتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان واحد ملک نہیں ہے جس کے لیے 15 اگست کا دن انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ جنوبی کوریا، شمالی کوریا اور کانگو ریپبلک بھی اسی تاریخ کو اہم قومی مواقع مناتے ہیں۔ اسی کے ساتھ لکٹینسٹین بھی 15 اگست کو ہی اپنا قومی دن مناتا ہے اور بحرین بھی 15 اگست کو ہی آزاد ہوا تھا۔ حالانکہ بحرین اپنا قومی دن کسی دوسری تاریخ کو مناتا ہے۔جنوبی کوریاجنوبی کوریا 15 اگست کو ’گوانگ بوک جیول‘ مناتا ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ دن جب روشنی واپس آئی۔ یہ تاریخ کوریا کو جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی ملنے کی علامت ہے، جو 1910 میں جاپان کی جانب سے جزیرہ نما کوریا پر باضابطہ قبضے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جاپان کے اتحادی ممالک کے سامنے اسلحہ ڈالنے کے بعد 15 اگست 1945 کو کوریا آزاد ہوا۔ 3 سال بعد 15 اگست 1948 کو جمہوریہ کوریا کے قیام کے ساتھ اس تاریخ کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اس دن سرکاری تقریبات، پرچم کشائی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ جنوبی کوریائی لوگ اپنے گھروں اور عوامی مقامات پر قومی پرچم لگاتے ہیں۔ آزادی کی جدوجہد کرنے والوں اور ان کی اولاد کو اعزاز سے نوازا جاتا ہے اور ساتھ ہی کئی تاریخی مقامات پر شہریوں کو خصوصی طور پر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔شمالی کوریاشمالی کوریا بھی 15 اگست کو مادر وطن کی آزادی کے دن کے طور پر مناتا ہے۔ یہ دن 1945 میں جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے کی یاد دلاتا ہے۔ تاہم شمالی کوریا اس تاریخ کو اپنے سیاسی نقطۂ نظر سے پیش کرتا ہے۔ اس میں کم اِل سُنگ اور کوریائی مزاحمتی فورسز سے وابستہ انقلابی جدوجہد پر خاص زور دیا جاتا ہے۔ اس دن سرکاری تقریبات، سیاسی پروگرام، ثقافتی پیشکشیں اور فوجی مظاہرے منعقد کیے جاتے ہیں۔ پیانگ یانگ میں یادگاروں پر پھول چڑھا کر خراجِ عقیدت بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے 15 اگست کا دن خاص طور پر منفرد ہے، کیونکہ جزیرہ نما کوریا کے دو حریف ممالک اسی تاریخ کو اپنا یومِ آزادی مناتے ہیں۔کانگو ریپبلککانگو ریپبلک، جسے کانگو برازاویل بھی کہا جاتا ہے، 15 اگست 1960 کو فرانس سے آزاد ہوا تھا۔ یہ علاقہ کئی دہائیوں تک فرانسیسی نوآبادیاتی حکمرانی کے تحت رہا، جس کے دوران یہاں کے قدرتی وسائل کا بڑے پیمانے پر استحصال کیا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد پورے افریقہ میں نوآبادیاتی نظام کے خلاف تحریکیں زور پکڑ گئیں۔ اس کے نتیجے میں بالآخر فرانسیسی نوآبادیاتی حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔بحرینبحرین کا 15 اگست سے ایک خاص اور دلچسپ تعلق ہے۔ برطانوی حکومت کے ساتھ اپنے سابقہ معاہدوں کو ختم کرنے کے بعد بحرین 15 اگست 1971 کو برطانیہ سے آزاد ہوا۔ برطانیہ نے کئی سال تک بحرین کی سلامتی اور خارجہ امور میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جب برطانیہ نہر سویز کے مشرقی علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلانے کی تیاری کر رہا تھا تو بحرین مکمل خود مختاری کی جانب بڑھا۔ تاہم بحرین 15 اگست کو اپنا اہم قومی دن نہیں مناتا۔ اس کے بجائے 16 دسمبر کو قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور ساتھ ہی سابق حکمران عیسیٰ بن سلمان آل خلیفہ کے اقتدار سنبھالنے سے متعلق تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔لکٹینسٹینلکٹینسٹین بھی 15 اگست کو اپنا قومی دن مناتا ہے، لیکن یہ موقع نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی سے متعلق نہیں ہے۔ ملک کا ’اسٹاٹس فائر ٹاگ‘ یا قومی دن 1940 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ تاریخ 2 موجودہ مواقع کو ملا کر طے کی گئی تھی۔ 15 اگست کو مریم کے آسمان پر اٹھائے جانے کا کیتھولک جشن اور شہزادہ فرانز جوزف دوم کی سالگرہ، جو 16 اگست کو تھی۔ یہ موقع دوسری عالمی جنگ کے مشکل دور میں قومی شناخت اور اتحاد کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تھا۔ لکٹینسٹین کی تقریبات منفرد ہوتی ہیں۔ شہریوں کو ایک باغ میں مدعو کیا جاتا ہے، جہاں وہ شاہی خاندان کے اراکین سے مل سکتے ہیں۔ شام کے وقت مشعلیں آس پاس کے پہاڑوں کو روشن کرتی ہیں اور آتش بازی سے محل کے اوپر کا آسمان جگمگا اٹھتا ہے۔