’رچناتمک کانگریس‘ کے قومی صدر اور لوک سبھا کے سابق رکن پارلیمنٹ سندیپ دیکشت کی جانب سے ان کے وکلاء امبُج دیکشت اور امریش رنجن پانڈے نے بی جے پی کے آئی ٹی اور سوشل میڈیا چیف امت مالویہ و اشوک شریواستو سینئر کنسلٹنگ ایڈیٹر، ڈی ڈی نیوز (دوردرشن نیوز) کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس 13 اگست 2026 کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقدہ ’رچناتمک کانگریس‘ کے قومی اجلاس میں قومی ترانے سے متعلق پیش آنے والے واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹس کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں۔رچناتمک کانگریس کنونشن سے راہل گاندھی کا حکومت پر حملہ، کہا- ’مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے والا نظام مسلط کیا جا رہا‘نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ قومی ترانہ باقاعدہ طور پر بجایا جا چکا تھا اور ختم ہو چکا تھا، جس کے بعد اسٹیج پر موجود افراد وہاں موجود لوگوں سے ملنے اور بات چیت کرنے لگے۔ اس کے بعد ہی آڈیو سسٹم کے چلانے میں ہونے والی ایک اچانک خرابی کی وجہ سے قومی ترانہ دوبارہ بجنا شروع ہوا، جسے آڈیو آپریٹر نے فوراً روک دیا۔ اسٹیج پر موجود سندیپ دیکشت اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سمیت کسی بھی شخص کو قومی ترانے کے دوبارہ بجنے کی پہلے سے کوئی معلومات نہیں تھی۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹس میں واقعے کو اس طرح پیش کیا گیا جیسے اسٹیج پر موجود لوگوں نے قومی ترانہ بجنے کے دوران جان بوجھ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اس طرح قومی ترانے کی جان بوجھ کر توہین کی۔ واقعے کے اصل سلسلے اور سیاق و سباق کو ہٹا کر ان پوسٹس نے جان بوجھ کر کی گئی توہین کا ایک غلط تاثر پیش کیا گیا اور اسٹیج پر موجود افراد کی ایسی نیت ظاہر کرنے کی کوشش کی، جس کی مکمل آڈیو-ویڈیو ریکارڈنگ میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مکمل اور بغیر ترمیم کی گئی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ واقعے کے حقیقی تسلسل کو واضح کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ قومی ترانے کا دوبارہ بجنا ایک اچانک تکنیکی غلطی تھی، جسے آڈیو آپریٹر نے فوراً ہی روک دیا۔ سندیپ دیکشت کی طرف سے وکلاء امبُج دیکشت اور امریش رنجن پانڈے نے متعلقہ افراد سے قابل اعتراض پوسٹس کو ہٹانے، غیر مشروط معافی مانگنے اور اس کی تردید جاری کرنے، لگائے گئے الزامات واپس لینے اور مستقبل میں ایسے یا اس جیسے الزامات دوبارہ شائع نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی نوٹس میں نوٹس میں متعلقہ مواد کی تیاری، ایڈیٹنگ اور اشاعت سے جڑے الیکٹرانک ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی کہا گیا ہے اور متعلقہ افراد سے فوری طور پر ضروری اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔