اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں اسکولی طلبا کے احتجاج کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری ایک پوسٹ میں اس احتجاجی مظاہرہ کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔ پوسٹ میں کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ جین-الفا بچے سڑکوں پر اتر کر اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ’وزیر اعلیٰ کو بلایا جائے‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔यूपी की राजधानी लखनऊ में GEN Alpha सड़क पर उतरकर अपना हक मांग रहे हैं और नारा लगा रहे हैं "CM को बुलाया जाए"छात्राओं का कहना है:• स्कूल में शिक्षकों की भारी कमी है• बोर्ड परीक्षा की तैयारी नहीं करवाई जा रही• बच्चों को खराब खाना दिया जाता है • बीमार पड़ने पर… pic.twitter.com/tprQ0r560j— Congress (@INCIndia) August 17, 2026کانگریس نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ احتجاج کرنے والی طالبات نے اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور تعلیمی نظام سے متعلق کئی شکایات سامنے رکھی ہیں۔ ان کے مطابق اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے، بورڈ امتحانات کی مناسب تیاری نہیں کرائی جا رہی، بچوں کو ناقص کھانا دیا جاتا ہے اور بیمار پڑنے کی صورت میں علاج کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ کانگریس کے مطابق احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی کمی کا براہ راست اثر تعلیم پر پڑ رہا ہے اور پڑھائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔طالبات نے یہ بھی شکایت کی کہ بورڈ امتحانات کی تیاری مناسب طریقے سے نہیں کرائی جا رہی۔ ایسے وقت میں جب طلبا کے لیے امتحانات تعلیمی مستقبل کے اعتبار سے اہم ہوتے ہیں، تدریسی عملے کی کمی اور تیاری کے مناسب انتظام نہ ہونے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ کانگریس نے اپنی پوسٹ میں طلبا کے کھانے اور صحت سے متعلق مسائل کا بھی ذکر کیا۔ کانگریس نے ان شکایات کو اسکولوں میں موجود بنیادی سہولیات کی صورت حال سے جوڑتے ہوئے اتر پردیش کی بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کی۔’جین-زی‘ کے بعد اب ’جین-الفا‘ بھی تباہ نظامِ تعلیم پر سوال پوچھ رہے، پی ایم مودی جواب دیجیے: کانگریسکانگریس نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے متعدد دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن ہر طرف بدانتظامی پھیلی ہوئی ہے۔ معاملہ صرف تعلیم کا نہیں ہے بلکہ اسکولوں میں بچے بنیادی سہولیات تک کے لیے ترس رہے ہیں۔ کانگریس نے اپنی پوسٹ میں الزام لگایا کہ حکومت کے لیے اقتدار ہی سب کچھ رہ گیا ہے اور ملک کے مستقبل کی فکر نہیں ہے۔ پارٹی نے سخت لہجے میں کہا کہ بی جے پی حکومت کی آنکھوں میں شرم کا پانی تک خشک ہو چکا ہے اور اسے صرف اقتدار دکھائی دیتا ہے، ملک کا مستقبل نہیں۔