یوگ گرو بابا رام دیو نے جین-زی تحریک کے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’ملک میں ہر طرف ہنگامہ برپا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اسکول اور کالجوں سے بچے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ وہاں ٹیچرس، کتابیں، بجلی، پانی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جہاں سب کچھ موجود ہے، وہاں پڑھائی میں نقل ہوتی ہے اور پرچہ لیک ہو جاتا ہے۔‘‘ یوم آزادی کے موقع پر ہریدوار میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ تعلیمی نظام اور سرکاری بھرتی کے عمل پر سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بجلی، اساتذہ کی کمی، سرکاری ملازمتوں کے انٹرویوز میں بدعنوانی سمیت کئی مسائل کا ذکر کیا۔بابا رام دیو تعلیم کے موجودہ حالات پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک میں ہر طرف ہنگامہ ہے۔ بچے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے یہاں ٹیچر نہیں ہیں، بجلی نہیں ہے، پانی نہیں ہے، بیت الخلا نہیں ہے۔ کہیں نقل ہو جاتی ہے، کہیں پرچہ لیک ہو جاتا ہے، تو کہیں سرکاری ملازمتوں کے انٹرویوز میں 99 فیصد گھپلے ہوتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ذمہ داران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سدھر جاؤ، ورنہ مزید تحریکیں ہو سکتی ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں گھپلے بھی بہت ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’سرکاری ملازمتوں میں انٹرویو کے دوران 90 سے 99 فیصد تک گھپلہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات، طبقے، برادری اور نظریے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ملازمت دیتے ہیں اور باقی لوگوں کو دھکے مار کر باہر کر دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ان سب کو توہین آمیز اور جمہوریت کے خلاف قرار دیا۔یوگ گرو نے کہا کہ ’’ایک طرف ہم ’ستیہ میو جیتے‘ کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پہلے سے طے کر کے لاکھوں، کروڑوں روپے لے کر ملازمتیں بانٹی جا رہی ہیں۔ اگر ملک میں مسلسل تحریکیں ہی چلتی رہیں، تو یہ ملک کیسے چلے گا۔ اب سرکاری ملازمتوں میں 50 لاکھ سے لے کر ایک کروڑ روپے تک لے کر تقرری کا کھیل چل رہا ہے۔‘‘ بابا رام دیو نے مزید کہا کہ ’’ویسے تو تحریک کے نام پر وہ انتشار کی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی اسے برداشت کرتے ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ملک میں گھپلے بھی بہت ہیں۔‘‘ موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’آج ملک میں نفرت اور عداوت کا ایسا ماحول بن گیا ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ میں اقتدار اور اپوزیشن پاکستان اور ہندوستان کی طرح ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں۔‘‘