واشنگٹن (17 اگست 2026): سینٹکام چیف نے بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے کی نفسیاتی حالت دیگر امریکی بحری جہازوں کے عملے سے بہتر قرار دے دیا۔ہفتے کے روز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے دورے کے بعد امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام کے چیف آف اسٹاف ایڈمرل بریڈ کوپر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن پر موجود افراد کی ذہنی صحت اُن افراد کے مقابلے میں بہتر ہے جو دیگر بحری جہازوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔بریڈ کوپر نے کہا امریکا کے 11 فعال بحری جہازوں میں ابراہم لنکن کے اہلکاروں میں ذہنی مسائل کی شرح سب سے کم ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ سب کچھ بالکل ٹھیک ہے، طویل عرصے تک سمندر میں رہ کر ڈیوٹی کرنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا، یہ جسمانی اور ذہنی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔مشترکہ فوجی مشقیں بہت مہنگی ہیں، ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشقوں سے متعلق اہم اعلانانھوں نے کہا ذہنی صحت بھی انسان کی مجموعی صحت کا ایک اہم حصہ ہے اور اس پر بھی اتنی ہی توجہ دینی چاہیے جتنی ہم جسمانی صحت پر دیتے ہیں۔سینٹکام کے کمانڈر کا یہ پیغام ابراہم لنکن پر تعینات فوجیوں کی شدید تھکن سے متعلق رپورٹوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تقریباً 5,000 فوجی اہلکار تعینات ہیں، یہ جہاز جنوری میں مشرقِ وسطیٰ پہنچا تھا اور ایران کے خلاف امریکی جنگ میں معاونت کر رہا ہے۔ اسے نومبر 2025 میں بحرالکاہل میں تعینات کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے مشرقِ وسطیٰ منتقل کر دیا گیا۔ یہ مسلسل 240 دن سے زیادہ عرصہ سمندر میں رہنے کا ریکارڈ قائم کر چکا ہے۔ عام طور پر امریکی بحریہ کے جنگی جہاز تقریباً 6 ماہ کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں۔