تلنگانہ: بھارت میں تلنگانہ کے ضلع نلگونڈہ میں پولیس نے دسویں جماعت کے دو نابالغ طلباء کو اپنے ہی اسکول کی خاتون پرنسپل کے وحشیانہ قتل اور ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے، ملزمان نے خاتون پرنسپل پر چاقو سے 27 وار کرکے قتل کیا اور گھر میں موجود نقد رقم اور موبائل فون لے کر فرار ہو گئے تھے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 1.54 لاکھ روپے سے زائد نقد رقم اور ایک آئی فون برآمد کر لیا ہے۔پولیس نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ مقتولہ کی شناخت روپا ریڈی کے نام سے ہوئی ہے، جو کونڈاملی پلی منڈل کے جے بی کالونی میں واقع ناگارجنا پبلک اسکول کی پرنسپل تھیں۔11 اگست کی صبح روپا ریڈی حیدرآباد سے اپنے گھر واپس آئیں جہاں ان کے شوہر کچھ کام کی وجہ سے حیدرآباد میں ہی رک گئے تھے۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں طالب علموں نے، جنہوں نے 5 دن پہلے ہی ڈکیتی کا منصوبہ بنایا تھا، پرنسپل کے گھر میں داخل ہوگئے۔ملزمان کا خیال تھا کہ اسکول کی فیسوں کی وصولی کا وقت ہونے کی وجہ سے گھر میں بھاری نقد رقم موجود ہوگی۔تحقیقات کے مطابق، جب ایک ملزم نے منہ پر ماسک پہن کر دیوار پھلانگی اور گھر کے اندر داخل ہوا تو اس کا ماسک اتر گیا۔ پرنسپل روپا ریڈی نے اپنے ہی اسکول کے طالب علم کو پہچان لیا۔پہچانے جانے کے خوف سے ملزمان نے پرنسپل پر چاقو سے 27 بار بے دردی سے وار کر کے انہیں قتل کردیا اور گھر میں موجود نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے۔پولیس نے معاملہ سامنے آنے پر واقعے کی تحقیقات کے لیے 5 خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ 70 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا اور 80 کے قریب افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ماں بیٹی سمیت 3 خانہ بدوش خواتین کا لرزہ خیز قتلاسکول کھلنے کے بعد جب پولیس نے ان 13 طلباء کی تفتیش کی جو مسلسل غیر حاضر تھے، تو دسویں جماعت کے ان دو طلباء کا معلوم ہوا، دونوں طلباء حالیہ دنوں میں اچانک فضول خرچی اور پرتعیش طرزِ زندگی گزار رہے تھے۔پولیس نے جب انہیں حراست میں لے کر سخت تفتیش کی تو انہوں نے جرم کا اعتراف کر لیا۔ برآمد شدہ نوٹوں پر خون کے دھبے پائے گئے، جن کا لیب ٹیسٹ کروانے پر انسان کا خون ہونے کی تصدیق ہوئی۔