دہلی میں طلبا تحریک کے دوران پیلیٹ گن کے استعمال پر کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کئی بار اپنی ناراضگی ظاہر کر چکے ہیں۔ اب وہ اس معاملہ میں کیس درج کرانے کے لیے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانہ پہنچ گئے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کے مطابق وہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پیلیٹ گن سے زخمی ہونے والے طالب علم ساحل لوچب کو لے کر شکایت درج کرانے پہنچے۔ ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے شرط رکھی ہے کہ جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، وہ تھانے میں ہی رہیں گے۔Delhi: Lok Sabha LoP Rahul Gandhi visits Parliament Street Police Station pic.twitter.com/Xgyz8lAFpM— IANS (@ians_india) August 21, 2026کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ 14 اگست کو ساحل لوچب اپنے وکیلوں کے ساتھ دہلی پولیس کے پاس گئے اور تحریری شکایت دی تھی، لیکن پولیس نے آئی/او نمبر دینے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد ازاں 17 اگست کو بھی ای میل اور فون کے ذریعہ دوبارہ معاملہ اٹھایا گیا۔ پھر بھی آئی/او نمبر نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی رسید دی گئی۔ اب راہل گاندھی متاثرہ شخص کے ساتھ خود پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانہ پہنچے ہیں۔ ڈی سی پی پھر بھی کیس افسر اور آئی/او نمبر نہیں دے رہے ہیں۔ چونکہ یہ قابل سزا جرم ہے، اس لیے ایف آئی آر بھی درج کی جانی چاہیے، لیکن دہلی پولیس ایسا نہیں کر رہی ہے۔ اس کے احتجاج میں راہل گاندھی دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں اور ارادہ ظاہر کیا ہے کہ جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوگی، وہ نہیں اٹھیں گے۔پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانہ میں دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، تصویر: کانگریس میڈیا سیلقابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے 24 جولائی 2026 کو ساحل لوچب کے ساتھ پریس کانفرنس کی تھی، جس میں انہوں نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ پیلیٹ گن کے استعمال سے متعلق جو دعوے کر رہی ہے، وہ جھوٹ ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی 20 جولائی کو دہلی میں احتجاج کر رہے طلبا پر ہوئی پولیس کارروائی سے متعلق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ اس بارے میں کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بتایا تھا کہ انہوں نے 19 سالہ طالب علم ساحل لوچب سے ملاقات کی، جو شدید درد میں ہے اور پیلیٹ گن لگنے کی وجہ سے اس کی ایک آنکھ کی بینائی جانے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا تھا کہ ’کیا احتجاج کر رہے طلبا کے خلاف پیلیٹ گن سمیت مہلک اسلحوں کے استعمال کی منظوری وزیر داخلہ نے دی تھی؟ اگر نہیں، تو اس کی اجازت کس نے دی؟‘Delhi: Lok Sabha LoP Rahul Gandhi visits Parliament Street Police Station pic.twitter.com/MH6eURrOLq— IANS (@ians_india) August 21, 2026بہرحال، کانگریس کے سینئر لیڈر غلام احمد میر کے حوالہ سے ’اے بی پی نیوز‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’20 جولائی کو جس طرح کارروائی کی گئی، اس پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھا جا رہا ہے کہ اگر آپ نے اجازت دی ہے تو ’ہاں‘ کہیں، نہیں دی ہے تو ’نہ‘ کہیں، تاکہ ملک کو معلوم ہو۔ وہ اس سوال سے بھاگ رہے ہیں۔ ملک میں کہیں جواب نہیں دے رہے ہیں۔‘‘ غلام احمد میر نے مزید کہا کہ پیلیٹ گن کے معاملے کو اٹھانے کے لیے راہل گاندھی تھانے گئے ہیں۔ پورے معاملے کو بے نقاب کرنے کے لیے وہ تھانے پہنچے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جائے۔مظاہرین طلبا پر آر اے ایف جوان نے چلائی تھی پیلیٹ گن! تشخیصی رپورٹ ہو رہی تیارواضح رہے کہ جنتر منتر اور ملک کے دیگر حصوں میں احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد اور سیکورٹی فورسز کی کارروائی کی جانچ کے لیے سپریم کورٹ نے 5 رکنی اعلیٰ اختیاراتی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج آر سبھاش ریڈی کو کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ کمیٹی یہ جانچ کرے گی کہ مظاہرین کو قابو میں کرنے کے دوران پولیس اور سیکورٹی فورسز نے ضرورت سے زیادہ یا نامناسب طاقت کا استعمال تو نہیں کیا۔ اس میں پیلیٹ گن، بجلی کے ڈنڈوں، لاٹھیوں اور آنسو گیس کے استعمال کے حالات کی بھی جانچ ہوگی۔ یہ دیکھا جائے گا کہ ان کا استعمال مناسب وارننگ دیے بغیر یا ضرورت سے زیادہ تو نہیں کیا گیا۔राहुल गांधी जी पहुंचे पार्लियमेंट स्ट्रीट थाना pic.twitter.com/ALb3teXgrI— Bihar Congress (@INCBihar) August 21, 2026اس کے ساتھ ہی کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کہ پولیس کی کارروائی اس وقت کے حالات کے لحاظ سے مناسب تھی یا نہیں اور قانون و انتظام برقرار رکھنے اور پُرامن احتجاج کے آئینی حق کے درمیان مناسب توازن قائم کیا گیا تھا یا نہیں۔ کمیٹی اس بات پر بھی غور کرے گی کہ مظاہرین کے خلاف پیلیٹ یا دیگر سخت پروجیکٹائل کے استعمال پر پابندی عائد کی جانی چاہیے یا نہیں۔