اِن تینوں ممالک میں سے صرف پاکستان کے پاس اعلانیہ جوہری ہتھیار ہیں۔ جبکہ ترکی صرف نیٹو کے جوہری شراکتی نظام کا حصہ ہے اور سعودی عرب نے ’پُرامن مقاصد کے لیے‘ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ سویلین جوہری پروگرام کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اس معاملے پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط رکھی تھی۔