لندن (20 اگست 2026): برطانیہ نے اسرائیل کی جانب سے نئے متنازع یہودی آبادکاری منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کرنے پر مذمت کی ہے۔برطانیہ نے اسرائیلی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج کیا، بدھ کے روز برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے بتایا کہ برطانیہ نے اسرائیلی ناظم امور کو طلب کیا، اور کہا کہ اسرائیل کو ای ون منصوبہ فوری روکنے، ٹینڈر واپس لینے اور تمام آبادکاری کی توسیع بند کرنی چاہیے۔ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے E1 علاقے میں بڑے پیمانے پر آبادکاری کا منصوبہ ناقابل قبول اور تباہ کن ہے۔ یہ فلسطین کے قلب کو کاٹ کر رکھ دے گا اور مغربی کنارے کو مشرقی یروشلم سے الگ کرنے کا خطرہ پیدا کرے گا، جس سے دو ریاستی حل کے قابلِ عمل رہنے کی گنجائش خطرے میں پڑ جائے گی۔انھوں نے کہا ’’برطانیہ نے نجی اور عوامی دونوں سطحوں پر E1 کے خلاف اپنی مخالفت اور دو ریاستی حل کی حمایت واضح کی ہے، کیوں کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے طویل مدتی سلامتی اور امن یقینی بنانے کا یہی واحد راستہ ہے۔ تمام آبادکار بستیاں اس امکان کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘‘اسرائیل کا غزہ میں تھانے پر حملہ، 13 سالہ لڑکی اور 8 پولیس افسر شہیدواضح رہے کہ اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں متنازع E1 غیر قانونی آبادکاری منصوبے کے حوالے سے کیے گئے ایک وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 1,234 غیر قانونی آبادکاری یونٹس کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے ان درخواست گزاروں کو، جنھوں نے عدالت میں اس منصوبے کو چیلنج کیا تھا، اس ٹینڈر کے اجرا سے قبل مطلع نہیں کیا۔ملی بینڈ نے کہا کہ انھوں نے یہ معاملہ براہِ راست اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر کے ساتھ اٹھایا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے منصوبے روک دے، ٹینڈر واپس لے اور آبادکاری میں توسیع کا سلسلہ بند کرے۔انھوں نے خبردار کیا کہ آبادکاری میں توسیع اور اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے تشدد فلسطینیوں کے حالات کو مزید خراب کر رہا ہے اور ایسی تقسیم پیدا کر رہا ہے جنھیں مستقبل میں ختم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ برطانیہ خاموش تماشائی بن کر دو ریاستی حل کی تباہی کو قبول نہیں کرے گا۔