اقوام متحدہ کے سربراہ کا بن گویر کے ’انتہائی ہولناک‘ بیان پر شدید ردعمل

Wait 5 sec.

نیویارک (20 اگست 2026): اقوام متحدہ کے سربراہ نے اسرائیلی وزیر بن گویر کے ’انتہائی ہولناک‘ بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے غزہ میں روزانہ 30 سے 40 فلسطینیوں کو قتل کرنے کی تجویز کی مذمت کی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے، جس میں انھوں نے تجویز دی تھی کہ اسرائیل کو غزہ میں ہر رات ’’30 یا 40‘‘ افراد کو قتل کرنا چاہیے۔جب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بن گویر کے اس بیان کی مذمت کرتے ہیں جس میں غزہ میں ہر رات تیس سے چالیس افراد کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کرنے کی بات کی گئی ہے، تو اسٹیفان دوجارک نے کہا ’’یہ بیانات انتہائی ہولناک ہیں۔ یہ اشتعال انگیز، انسانیت سے عاری اور خطرناک ہیں، اور ہم ان کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘اسرائیلی ٹینڈر پر برطانیہ نے احتجاجاً ناظم الامور کو طلب کر لیابن گویر نے یہ ہرزہ سرائی ہفتے کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک پوڈکاسٹ میں کی تھی۔ غزہ میں سابق اسرائیلی یرغمالی روم براسلافسکی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، جو خود بھی ایک پوڈکاسٹ چلاتے ہیں، بن گویر نے کہا ’’میرے خیال میں غزہ میں ٹارگٹ کلنگ کی جانی چاہیے اور ہر رات تیس سے چالیس افراد کو ختم کیا جانا چاہیے۔ صرف ان لوگوں کو نہیں جو فوری خطرہ ہیں، وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو زندگی کے مستحق نہیں۔ انھیں زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ وہ تو انسان بھی نہیں ہیں۔‘‘ادھر طبی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ کے ایک پولیس اسٹیشن میں 9 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ امریکی ایلچی جیرڈ کشنر کے خطے کے دورے کے دو روز بعد ہوا، جو غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔