حیدرآباد میں تیز رفتار ایسٹن مارٹن کار کی ٹکر سے 26 سالہ خاتون کی موت ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق 16 اگست کو ’ان آربٹ مال‘ کے سامنے سڑک پار کرتے وقت تیز رفتار ایسٹن مارٹن کار نے خاتون کو ٹکر مار دی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے ’جن سینا پارٹی‘ کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ لنگامنی رمیش کے بیٹے لنگامنی سنجوش کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ان پر لاپروائی اور انتہائی تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کا الزام ہے۔VIDEO | Hyderabad: Son of Andhra Pradesh Rajya Sabha MP Lingamaneni Ramesh has been booked after a luxury Aston Martin car allegedly hit and killed a 26-year-old woman in Madhapur. Further investigations underway.#HyderabadNews (Full video available on PTI Videos -… pic.twitter.com/Hp8UeVTJei— Press Trust of India (@PTI_News) August 21, 2026متوفی خاتون کی شناخت بھارتی مکھی کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ ’ان آربٹ مال‘ کے ایک اسٹور میں سیلز وومن کے طور پر کام کرتی تھیں۔ مادھا پور پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کے وی سبّاراؤ کے مطابق بھارتی اپنی ایک ساتھی کے ساتھ دوپہر تقریباً 3 بجے آئی ٹی سی کوہ نور کی طرف کھانا لینے گئی تھیں۔ واپس لوٹتے وقت جب وہ مال کے سامنے سڑک پار کر رہی تھیں، تب مبینہ طور پر تیز رفتار سے آ رہی کار نے انہیں ٹکر مار دی۔اس ٹکر کے بعد بھارتی کے سر میں شدید چوٹ آئی اور کافی خون بہنے لگا۔ انہیں فوری طور پر جوبلی ہلز واقع اپولو اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ (1)106 کے تحت مقدمہ درج کر کے جانچ شروع کر دی۔ جانچ کے دوران پولیس نے کار کے مبینہ ڈرائیور کی شناخت 21 سالہ لنگامنی سنجوش کے طور پر کی۔ پولیس کے مطابق سنجوش ’جن سینا پارٹی‘ کے راجیہ سبھا رکن اور کاروباری لنگامنی رمیش کے بیٹے ہیں۔ پولیس نے سنجوش کو حادثے والے دن ہی حراست میں لے لیا تھا۔ وہ خود بھی کاروباری بتائے جاتے ہیں اور مادھا پور علاقے کے رہنے والے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ملزم کا ڈرنک ڈرائیونگ اور ڈرگ ٹیسٹ کرایا ہے۔ ان کے خون کے نمونے بھی لیے گئے ہیں، جنہیں جانچ کے لیے فارنسک سائنس لیبارٹری بھیجا گیا ہے۔ حادثے میں شامل ایسٹن مارٹن کار کو بھی پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔ پولیس اس معاملے کی مزید جانچ کر رہی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔ جانچ کے بعد ہی حادثے سے جڑے دیگر پہلوؤں اور ذمہ داری کے بارے میں صورت حال مزید واضح ہوگی۔