غزہ پلان: ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر سے ملاقات میں حماس وفد کو کیا یقین دہانی کرائی گئی؟

Wait 5 sec.

قاہرہ (17 اگست 2026): قاہرہ میں امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر کی حماس کے وفد سے اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں غزہ کی صورت حال اور اسرائیلی حملوں پر گفتگو کی گئی۔عرب میڈیا کے مطابق جیرڈ کشنر سے ملاقات میں حماس نے غزہ مکینوں کی بے دخلی کا معاملہ اٹھایا، امریکی ایلچی نے غزہ کے مکینوں کی بے دخلی کا اسرائیلی منصوبہ مسترد کرنے کی یقین دہانی کرائی۔جیرڈ کشنر نے حماس کو اسرائیلی انتخابات کے نتائج پر انحصار نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا، کشنر نے یقین دہانی کرائی کہ حماس کو غیر مسلح ہونے کے بعد سیاسی عمل میں شرکت کی مکمل آزادی ہوگی۔حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اور چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کریں کیوں کہ یہ منصوبہ خود ٹرمپ کا پیش کردہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مکہ معاہدے کا خیر مقدمخلیل الحیہ نے کہا فلسطینی گروپ نے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل کیا ہے، امریکی امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی افواج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں اور ایک نئی غیر فوجی انتظامیہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو کی جائے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ ہفتے اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ سب سے پہلے وہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا خواہاں ہے۔